خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 307

۳۰۷ مقامات پر پھیلے ہونے کے جماعت ترقی کر رہی ہے۔ اگر آپس میں محبت و اخلاص اور ہمدردی نہ ہو تو پھر جماعت کیسے محفوظ رہتی ہے۔ اگر ہم اتے میں چوری ہو اور دوسرا آرام سے سوتا رہے کہ میرے گھر میں تو نہیں ہوتی ، تو اس کی بھی خیر نہیں یا اگر کسی کے گھر میں آگ لگے ۔ اور دوسرا اس تو خیال کی بنا پر مطمئن ہو جائے کہ میرے گھر میں تو آگ نہیں لگی ہوئی ۔ تو اس کا یہ اطمینان جھوٹا اطمینان ہوگا، کیونکہ آگ ہمسائے کے مکان کو جلا کر اس کے مکان تک پہنچے گی ۔ پیس افراد کی مصیبت جماعت کی مصیبت ہوتی ہے۔ کیونکہ افراد سے ہی جماعت بنتی ہے ۔ اگر افراد کی عزت ہوگی اور افراد اچھی حالت میں ہوں گے ۔ تو جماعت بھی اچھی حالت میں ہوگی ۔ آج دنیا میں عیسائی بادشاہ ہیں۔ ایک چوہڑا جو عیسائی ہو جاتا ہے وہ بھی فخریہ کہتا ہے کہ میں عیسائی ہوں ۔ جن جگہوں میں ہندو زیادہ ہیں۔ وہاں ہندو معزز و محترم ہیں اور مسلمان جہاں زیادہ ہیں۔ وہاں مسلمانوں کی اچھی حالت ہے۔ غلبہ افراد کے ذریعہ ہی ہوا کرتا ہے۔ اگر افرادمیں کھیتی نہ ہو۔ تو پھر جماعت میں بھی نہیں ہو سکتی ۔ اور اگر افراد کی مصیبت کو اپنی افراد کی مصیبت خیال کیا جائے تو پھر اس طرح دشمن کو غلبہ پانے کے لیے بہترین موقع مل جاتا ہے ۔ کہتے ہیں کسی شخص کے باغ میں تین شخص ایک مولوی ایک سید اور ایک اور عام آدمی مل کر چوری کرنے گئے۔ وہاں انہوں نے خوب باغ میں تباہی ڈالی ۔ اتنے میں باغ کا مالک آیا۔ اس نے مقابلہ ظاہراً مناسب نہ جان کر ان سے کہا کہ حضور خدا کا شکر ہے کہ آپ لوگ یہاں تشریف لاتے ۔ بھلا کہاں ہماری قسمت کہ آپ سے بزرگ یہاں آتے۔ یہ باغ تو کیا ہے۔ اگر اور بھی کوئی چیز میرے پاس ہوتی تو میں وہ بھی آپ پر شار کر دیتا۔ وہ بہت خوش ہوتے تھوڑی دیر کے بعد اس نے مولوی کو مخاطب کیا، اور کہا جناب مولوی صاحب ! آپ تو رسول کریم کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ اور حضرت سید صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت میں سے ہیں۔ اگر آپ دونوں نے باغ کی اشیاء کو استعمال کیا، تو یہ آپ کا حق تھا، لیکن یہ جو تیسرا شخص ہے ۔ اس کو کیا حق حاصل تھا کہ میرے باغ میں تباہی ڈالتا ۔ مولوی صاحب نے فرمایا ، کہ واقعی اس شخص نے غلطی کی ہے اور واجب مزا ہے۔ باغ والے نے کہا کہ آپ میری مدد کریں۔ چنانچہ اس کو پکڑ لیا اور دونوں مولوی اور سید نے اس کو مدد دی اور اس شخص کو خوب مارا۔ اور درخت سے باندھ دیا اسی طرح تھوڑی دیر کے بعد سید کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے ہیں ۔ اس لیے اگر آپ نے باغ میں سے کچھ کھایا تو آپ کا حق تھا ، لیکن یہ مولوی کہلا کر اوردین علوم پڑھ کر دوسرں کی چیزوں کو خراب کرنے والا کون تھا ۔ سید صاحب - سید صاحب پھول گئے ۔ باغ والے کے