خطبات محمود (جلد 6) — Page 284
NVA مانگتا۔ جبکہ اس نے مال تمہارے حوالہ کیا۔ تو اس کا حق تھا ۔ پس اگر ایک شخص قرض دے کر ایک دن دو دن یا ہفتہ خاموش رہتا ہے۔ اور پھر مطالبہ کرتا ہے تو اس نے کوئی بدسلوکی نہیں کی۔ بلکہ جس قدر وہ کر سکتا تھا۔ اس نے احسان کیا ہے ۔ اور احسان کرنا اسی کا کام نہیں۔ بلکہ تمہارا بھی ہے۔ کہ جس طرح اس ۔ سے مال لے کر روپیہ بعد میں دینا چاہتے ہو۔ اسی طرح اسے بھی پیشگی روپیہ دید یا کرو پس اگر کوئی دوکاندار مال دے کر ایک مہینہ تک کچھ نہیں طلب کرتا تو اس نے احسان کا معاملہ کیا ہے مگر خریدنے والے نے اس کے ساتھ بھائیوں والا معاملہ نہیں کیا کہ جب اس سے مطالبہ کیا گیا ۔ تو جھگڑنے لگ گیا۔ اگر یہ بھی بھائیوں والا معاملہ کرتا تو کوئی جھگڑا اور فساد نہ ہوتا اور یہ کوئی وجہ نہیں کہ ایک شخص اپنا حق طلب کرے تو دوسرا اس سے لڑنے بیٹھ جائے ۔ دیکھو اگر ایک فقیر کچھ مانگے ۔ اور کچھ دینے پر وہ زیادہ لینے کے لیے اصرار کرے تو دینے والا کہتا ہے بھئی تمہارا کچھ حق تو نہ تھا۔ جتنا مجھے دینا تھا ۔ دیدیا ۔ ایسے موقع پر تو یہ بات یاد آ جاتی ہے کہ کسی حق کی بنا پر ہی رعایت کا مطالبہ ہو سکتا ہے ، لیکن تاجر کے مطالبہ پر اور حق بجانب مطالبہ پر کہا جاتا ہے کہ اس نے مجھے اور زیادہ رعایت کیوں نہ دی۔ اور احسان نہ کیا۔ اس وقت یاد نہیں رہتا کہ میرا تاجر پر کیا حق ہے کہ رعایت اور احسان چاہتا ہوں ۔ تو یہ مجیب پڑاتی ہوتی ہے۔ قرآن نے اس قسم کی لڑائیوں سے بچنے کا یہ اصل بتا دیا ہے کہ تم محسن بنور پیس ایک شخص جو دو سرے سے اس لیے لڑنے بیٹھتا ہے کہ اس نے مجھے پر کیوں احسان نہیں کیا ۔ وہ خود اس پر احسان نہیں کرتا ۔ وہ اس لیے ناراض ہوتا ہے کہ دوکاندار نے اس کو زیادہ چیز کیوں نہیں دی۔ ہم کہتے ہیں کہ اس نے دوکاندار سے کم کیوں نہ لے لی ۔ کہا جاتا ہے ۔ دیکھو جی فلاں دوکاندار کیسا کورا آدمی ہے کہ ایک روپیہ کی دال یا چاول لیے تھے۔ ایک دانہ زیادہ نہ ڈالا ہم کہتے ہیں لینے والے نے کچھ کم کیوں نہ لے لی ۔ اگر سیر کا بھاؤ تھا تو پونا سیر کیوں نہ لے لیا۔ اسی طرح پڑا خرید نے جاتے ہیں اور خواہش کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ دو انگشت زیادہ پھاڑنا ۔ مگر نہیں کہتے کر گز سے کچھ کم کر دیا ۔ غرض جتنے جھگڑوں کو میں نے دیکھا ہے چھ سال سے ذمہ داری کے طور پر اور اس سے پہلے سے ذمہ ایک ساتھی اور بھائی کے طور پر ان میں ننانونے کی صدی جھگڑوں کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ فلاں نے ہم پر احسان کیوں نہ کیا اور ایک دوسرے سے احسان کا خواہاں ہوتا ہے خود محسن بننا نہیں چاہتا۔ پھر سب سے بڑی طوطا چشمی تو یہ ہے کہ شریعت کے حکم کا دوسرے سے مطالبہ کیا جائے اور