خطبات محمود (جلد 6) — Page 277
۲۷۷ 52 H طالب علموں کو نصیحت مدرسہ سے چھٹی ھے دین کے کاموں سے چھٹی نہیں فرموده یکم است ه ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- بوجہ اس کے کہ میرے حلق میں کئی دن سے کچھ تکلیف ہے۔ آج میرا ارادہ خود خطبہ پڑھنے کا نہ تھا، مگر اس خیال سے کہ اب چھٹیاں ہونے والی ہیں۔ اور طالب علم اپنے گھروں کو جائیں گے ۔ اور چونکہ آجکل میں بیماری کی وجہ سے درس بھی نہیں دیتا ، پہلے درس میں ہی بچوں کو نصیحت کر دیا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ خطبہ میں ہی کچھ نصیحت کر دوں ۔ معلوم نہیں پچھلے جمعہ یا پچھلے سے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ کام آرام کے بیان لیے کیا جاتا ہے۔ جب کام کیا جاتا ہے۔ تو حق ہوتا ہے کہ آرام کیا جاوے ۔ اس کے ساتھ کام اور جاتا توتی کیا ہے۔ آرام کا مقابلہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ آیا تھوڑے کام کے بعد آرام زیادہ ملتا ہے یا زیادہ کام کے بعد آرام کم ۔ اگر تھوڑے کام کے بعد آرام زیادہ متا ہے۔ تو یہ کام مفید ہو گا۔ اور اگر زیادہ کام کے بعد آرام کر لے تو وہ کام غیر مفید - کیونکہ کام وہی مفید ہوتا ہے جس میں کم محنت کے بعد آرام زیادہ ہے۔ طالب علم جو یہاں پڑھنے آتے ہیں یا جو اپنی اپنی جگہ پڑھتے ہیں ۔ ان کو بہت کچھ محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور اگر غور کیا جاوے، تو واقعہ میں جو محنت طالب علم کرتے ہیں۔ وہ میرے نزدیک بڑے آدمیوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اور یہ ان کی عمر ہی ہوتی ہے جو ان کو اس سخت محنت کے قابل بناتی ہے ۔ ورنہ اتنا سر کھپانا ان لوگوں سے جو محنت کر چکے ہیں۔ مشکل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ایک طالب علم تمام دن " " " "ب" رہتا ہے۔ جوان آدمی اس قدر محنت نہیں کر سکتا۔ کر سکتا۔ اور اگر میں