خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 264

۲۶۴ تو وہ لوگ جو اس بات کو سمجھ لیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔ وہ گویا اقرار کرتے ہیں کہ جو پہلے مذاہب تھے ۔ وہ بگڑ چکے ہیں۔ یا ان کا مطلب اور مفہوم بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور اب ضرورت تھی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی انسان کھڑا ہوتا کہ حقیقی دین پر لوگوں کو چلاتے ۔ یہ اقرار کر کے اگر کوئی شخص عملی طور پر حضرت مسیح موعود کو رد کرتا ہے تو سوچ لو کہ خدا کے حضور اس کا کیا حال ہوگا۔ پہلا شخص اگر رد کرتا ہے تو وہ خدا کا بہانہ اور آڑ لے کر رد کرتا ہے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے کہ میں مرزا صاحب کو اس لیے نہیں مانتا کہ قرآن ان کی تردید کرتا ہے۔ اس لیے نہیں قبول کرتا کہ رسول کریم رو فرماتے ہیں۔ ایسا شخص خطاوار ہے۔ کیونکہ وہ دراصل خدا اور رسول کی بات کو رد کرتا ہے مگر بظاہر خدا اور رسول کی آڑ لے کر ایسا کرتا کر لیا ہے ۔ مگر دوسرا شخص جو تسلیم کرتا ہے کہ خدا اور نہ خدا اور رسول کی منشاء کے مطابق حضرت مرزا صاحب آتے ہیں۔ وہ اگر رو کرتا ہے تو زیادہ قصور وار ہے۔ کیونکہ اس نے با وجود ماننے اور تسلیم کرنے کے رد کیا۔ اسی طرح اگر پہلا شخص عملاً کوئی اس قسم کی کوشش کرتا ہے جس سے سلسلہ احمدیہ کو نقصان پہنچے تو وہ بھی مواخذہ کے قابل ہے۔ کیونکہ جس طرح نہ ہر کو خواہ کوئی جان کر کھائے یا بے جانے کھائے ۔ ہلاک ہوتا ہے اسی طرح صداقت اور حق کا مقابلہ خواہ جان کر کرے یا انجان ہو کر کرے۔ زیر مواخذہ ہوتا ہے لیکن حسن طرح جو جان بوجھ کر زہر کھائے ۔ وہ مرنے کے علاوہ خود کشی کے جرم کا بھی مجرم ہوتا ہے۔ اور اسے دوہری سزا ملتی ہے ۔ ایک قانونِ قد قانون قدرت کے قدرت کے ذریعہ اور دوسری قانون شریعت کے ماتحت۔ ماتحت اور جو ہوگا۔ اسی بے جانے بوجھے کھاتے۔ اتے۔ مرتا تو وہ بھی ہے ، لیکن اس سے خود کشی کے جرم کا مواخذہ نہیں ہو گا۔ طرح جو شخص صداقت کا انکار ہے جانے کرتا ہے ۔ سزا کا مستوجب تو وہ بھی ہے لیکن جو جان بوجھ کر کرتا ہے ۔ وہ دوہری سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے احمدی جماعت کے لیے دوسروں کی نسبت زیادہ احتیاط اور ہوشیاری کی ضرورت ہے ۔ وہ لوگ بھی سزا پائیں گے جنھوں نے اس صداقت کو قبول نہ کیا۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام لائے اور اس کا مقابلہ کیا، لیکن احمدی کہلا کر اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ دوہری سزا کا مستوجب ہوگا ۔ میرے پاس مختلف جگہوں سے اس قسم کے خطوط آتے ہیں جن میں لکھا ہے کہ چونکہ ہمارا فلاں سے جھگڑا ہے اس لیے ہم فلاں جگہ نماز پڑھنے کے لیے نہیں جائیں گے اور بعض کے متعلق دوسروں نے لکھا ہے کہ وہ یا جماعت نماز پڑھنے کے لیے اس لیے نہیں آتے کہ فلاں سے ان کا جھگڑا ہے وہ لوگ قادیان میں موجود نہں ہیں، لیکن نصیحت کسی خاص کے لیے نہیں ہوا کرتی بلکہ ہر ایک کے لیے ہوتی ہے۔ کیونکہ کون جانتا ہے کہ کسی کے دل میں وہی بات پیدا نہ ہو جائیگی جس کے لیے