خطبات محمود (جلد 6) — Page 245
۲۴۵ خود نہیں جاگ سکتے۔ ان کو خود جگا دے۔ ان کی غفلتیں چونکہ ان کے لیے موجب ہلاکت ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ان کے ہشیار کرنے کے لیے رمضان کا ایسا وقت مقرر کر دیا کہ جس میں وعدہ کیا کہ میں دعائیں زیادہ سنوں گا ئینتا تو وہ روز ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہر گھڑی عید اور ہر گھڑی قبولیت کے لیے رمضان ہو سکتی ہے۔ مگر غافل لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک خاص مہینہ مقرر کر دیا گیا کہ وہ اس میں فائدہ اُٹھائیں ۔ بہتوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر یوں کہا جاتے کہ کوئی یہ کام کر دے تو ان میں سے کوئی بھی نہیں کرے گا۔ اور اگر یہ کہا جاوے کہ کسی وقت کر دے تب بھی ان میں سے کوئی نہیں کریگا۔ کیونکہ ان کو یہ خیال ہوگا کہ اگلے وقت میں جو آتا ہے۔ کر دینگے، لیکن اگر وقت مقرر کر دیا جا رے تو کر لیتے ہیں ۔ اس لیے خُدا نے اپنے فضل و احسان عظیم کے ماتحت تمام لوگوں کے لیے موقع رکھ دیا کہ رمضان میں آسانی سے دعاکریں اگر وہ یوں کہتا کہ جس نے قرب حاصل کرنا ہے کر لو تو بہت نہ کرتے ۔ مگر اس نے کہا کہ میرا قرب حاصل کرو اور میں جو چاہے کرے اور پھر فضل کیا اور وقع دیا کہ ہر ایک اس سے فائدہ اُٹھا کے ۔ ورنہ وہ ہر مہینہ دعائیں قبول کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ ادعونی استجب لكم (غافر : (4) افمن يجيب المضطر اذا دعاه (النمل (۶۳) اور واذا سألك عبادي عني فاني قريب - اجيب دعوة الداع اذا دعان (البقرہ : ۱۸۷) اس لیے کسی ساعت کی شرط نہیں لگائی ۔ اگر کوئی شرط لگاتی ہے تو صرف یہ کہ میرا بندہ ہو، یعنی خدا کی عبودیت کا اقرار کرے ۔ ہمارا یہ اقرار اس کی رحمت اور رافت کو جوش میں لائے گا ۔ اور جو کھٹکھٹاتے گا ۔ اس کے لیے کھولا جائے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر میرا بندہ میری طرف ایک قدم اُٹھاتا تو میں دو قدم اُٹھاتا ہوں۔ اگر میرا بندہ میری طرف چل کر آتا ہے۔ تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں لیے سو خدا کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ۔ اس میں رمضان اس میں رمضان کی اور رات دن کے کسی حصہ کی خصوصیت نہیں کیا بندہ ہر وقت محتاج نہیں کیا بندہ کی محتاجی کسی خاص وقت پر منحصر ہے۔ کیا شعبان اور شوال میں بندہ محتاج نہیں ۔ پھر کیا ہفتہ اور جمعہ کے روز بندہ محتاج نہیں ۔ پھر کیا جمعہ کی صبح اور عصر تک محتاج نہیں۔ وہ تو اسی طرح محتاج ہے جس طرح ان دنوں میں محتاج ہے ۔ پھر کیوں اس نے خاص اوقات میں خاص افضال و انعام کو محدود کر دیا۔ میں نے بتایا ہے کہ یہ بھی بطور رحمت کے ہے اس لیے کہ انسان کو ہوشیار کرے ۔ پھر اللہ ان گھڑیوں میں زائد انعام دیتا ہے تاکہ انعام کے خواہاں لوگوں کو انعام کے لینے بخاری کتاب الرقاق باب من احب لقاء الله