خطبات محمود (جلد 6) — Page 24
۲۴ اس وقت میرا اس لمبی تمہید کے بیان کرنے سے ایک خاص منشار ہے۔ اور وہ یہ کہ ہم لوگ دعوئی کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ اسلام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لاتے۔ اور ہم خواہش رکھتے ہیں کہ اس ایمان کو حاصل کریں، جو حقیقی ایمان ہے۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہے اور ہر ایک اس کے لیے مقدور بھر محنت اور کوشش بھی کرتا ہے۔ مگر میں نے بتایا ہے کہ کوئی کام صرف محنت اور کوشش سے نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ اس کا نتیجہ حسب منشاء اسی وقت نکل سکتا ہے جبکہ اس کے لیے مسیح ذرائع سے محنت کی جاتے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو محنت و مشقت خواہ کتنی برداشت کر لی جائے۔ کچھ فائدہ اور نفع نہیں ہو سکتا۔ پس آپ لوگوں کا جہاں یہ خیال ہے کہ اسلام اور ایمان کے لیے خواہ کوئی قربانی کرنی پڑے اس سے دریغ نہیں ہے۔ اور خدا کے لیے ہر ایک محبوب اور مرغوب چیز کو چھوڑنے کے لیے تیار ہو۔ وہاں اس چھوڑنے کا عمل ان ذرائع سے ہونا چاہتے جو خدا نے مقرر کہتے ہیں۔ بہت لوگوں کو دیکھا گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خدا سے انہیں ایسا مضبوط تعلق ہو جاتے کہ جسے کوئی چیز نہ کاٹ سکے۔ اور انکے جسم کے ذرے ذرے میں خدا کی محبت اور الفت بھری ہوتی ہو، لیکن باوجود اس خواہش کے کہ بہت ہیں جو بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں دیگر وہ مدعامال نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کو سمجھ لینا چاہتے کہ ان کی کوشش اور سعی اس طریق پر نہیں ہو رہی کہ کامیابی حاصل ہو سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان کو اس سے تعلق پیدا کرنے کی سچی خواہش بھی ہو اور وہ صحیح ذرائع سے اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہو مگر کامیاب نہ ہو۔ بعض باتوں میں ایسا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کام کے لیے خدا نے سب کو پیدا نہیں کیا ہوتا ۔ مثلاً ایک شخص پہلوان ہے ۔ اس کا جسم خوب مضبوط اور طاقتور ہے۔ اور ایک اور ہے جس کے جسم کی بناوٹ کمزور ہے ۔ اب یہ خواہ کتنی ورزشیں کرے ۔ خوراکیں کھاتے جسم کے فربہ ہونے کے قواعد کی پابندی کرے ۔ اس سے کچھ تو اس کا جسم مضبوط ہو جائے گا۔ مگر یہ نہیں ہوگا کہ پہلوان ہو جائے۔ کیونکہ سب انسان پہلوان بننے کے لیے نہیں پیدا کئے گئے ۔ ہاں سب انسان ایماندار بننے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں ۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو ایماندار بننے کی خواہش بھی ہو۔ اور وہ اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہو اور وہ کوشش صحیح طور پر بھی ہو میگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اگر ایسا ہو تو پھر خدا ظالم ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانوں میں عرفان حاصل کرنے کا مادہ ہی نہیں ہے ، لیکن ایمان کے متعلق یہ بات نہیں کہی جا سکتی ۔ تمام انسان خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں ۔ کوئی زبان بولنے والے ہوں کیسی مذہب کے پابند ہوں ۔ ان میں ایمان