خطبات محمود (جلد 6) — Page 227
۲۲۷ قل نہیں کیا جائیگا یہ ہی کہا جاتا کیا جائیگا بلکہ یہ کہا جائیگا کہ اس کا دل نهایت تنگ ہے کہ بڑی بات اس میں سماہی نہیں سکتی کیونکہ مذہب کی غیرت بوجہ تنگ دل ہونے کے اس میں آہی نہیں سکتی ہیں یہ نہیں کہ اس میں علم ہے۔ اور وہ وسیع القلب ہے۔ بلکہ وہ بے غیرت ہے۔ اور بے حیائی کو قبول کرتا ہے۔ پس اسی طرح قناعت کا معاملہ ہے ۔ ایک حد تک موجب عزت ہوتی ہے مگر ایک ایسا شخص جو مذہبی ترقی کے لیے قانع ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس کی مذہبی ترقی یا اس کے مذہب کی ترقی کافی ہو چکی ہے۔ وہ بے ہمت اور نکتا ہے۔ اور جو قومیں اپنی ترقی پر قانع ہو جاتی ہیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں جماعت اور قوم کے لیے ضروری ہے۔ کہ اپنی ترقی کے لیے حریص ہو جو قوم بجائے ترقی کرنے کے ایک مقام پر ٹھر جاتی ہے وہ گرنے لگ جاتی ہے اور ترقی وہی کرتی ہے۔ کہ ہر ایک درجہ جو اس کے سامنے آئے۔ وہ اس کو اپنا حق خیال کرے اور کوشش کرے کہ اس کو حاصل کرتے جب تک یہ نہ ہو اس جماعت یا مذہب کے لوگ کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے لیکن جب تک انسان کو یہ خیال ہو کہ ابھی اسے اور بھی کچھ حاصل کرنا ہے اس وقت تک ترقی کے راستے اس کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔ ترقی کی کوئی انتہا نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے رَبِّ زِدْنِي عِلما رله : ۱۵) کام کرنے والی قومیں ترقی کے میدان میں پڑھتی چلی جایا کرتی ہیں۔ وہ کسی مقام پر نہیں ٹھر تیں مگر جن قوموں نے تباہ ہونا اور کرنا ہوتا ہے ۔ وہ ایک مقام پر جا کر ٹھر جاتی ہیں۔ اور خوش ہوتی ہیں مگر جن اور قوموں نے کچھ کرنا ہوتا ہے ۔ وہ کسی مقام پر نہیں ٹھر تیں۔ اور کوئی ایسا نقطہ نہیں ہوتا جسکو وہ آخری نقطہ قرار دیں پس ہم کسی کامیابی پر خوش نہیں ہو سکتے جب تک ہم اس سے آگے نہ بڑھ جائیں ۔ اور جب تک ہر ایک خوشی آئندہ ترقی کے لیے تحریص بلکہ تحریص کا باعث نہ ہو۔ یہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ ص کو ض سے بدل دیا جائے تو اس کے معنی اور مضبوط کے ہوتے ہیں۔ پس ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہمارا ہر مقام آئندہ کے لیے محرک ہو۔ اور زیادہ سے زیادہ جوش کا باعث ہو۔ اگر یہ ہو جائے، کوئی انسانی طاقت ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اور جو طاقت بھی ہمارے لیے روک بنے گی وہ مٹا دی جاتے گی۔ کیونکہ خدا کا یہ منشار ہے کہ اسلام پھر قائم ہو ۔ خدا کے اس منشاء کے خلاف جو حکومت ہو گی ۔ وہ مٹا دی جائے گی۔ اور جو طاقت ہوگی وہ برباد کر دی جائے گی۔ اور باوجود اس کے کہ ہمارے پاس کوئی ظاہری سامان نہیں۔ تاہم یونسی ہو گا کیونکہ یہ للہ تعالیٰ کا منشاء ہے۔ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رستہ میں جو سلطنتیں آئیں اور انھوں نے احمدیت