خطبات محمود (جلد 6) — Page 222
امر میں بھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ اور غلط طریق پر چل کر کوئی مقصد حاصل نہ ہونے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حاصل ہی نہیں ہوا کرتا۔ یا اب حاصل ہی نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً کوئی شخص ایسا نہیں جس کے پاؤں میں ہی ہوا آنکھیں ہوں یا کھوپڑی پر کان ہوں مگر اس سے یہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ چونکہ پاؤں میں آنکھیں ۔ اور یا پر کھوپڑی پر کان نہیں۔ اس لیے ان کی ضرورت ہی نہیں ۔ اور ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ کیونکہ جہاں جہاں یہ موزوں تھے وہیں لگا دیتے گئے ۔ اور ان سے کام لینے کے سامان پیدا کر دیتے گتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بالکل لغو ہے کہ آنکھیں پاؤں میں اور کان کھوپڑی پر لگاتے جاتے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جس چیز کی ضرورت تھی ۔ اس کو پورا کیا گیا ہے یا نہیں سو ہم دیکھتے ہیں کہ جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ تو ضرور پیدا کی ہیں۔ پس اسی طرح چونکہ اتفاق و اتحاد انسانوں کے لیے ضروری بنایا گیا ہے۔ اس لیے ناممکن ہے کہ اس کے حاصل کرنے کے ذرائع نہ رکھے ہوں ۔ ضرور رکھتے ہیں۔ مگر ان کے تلاش کرتے کی ضرورت ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب اتفاق کی ضرورت بھی ہے اور اس کے حاصل کرنے کے لیے کوشش بھی ہوتی ہے۔ تو یہ حاصل کیوں نہیں ہوتا ۔ اس کا جواب یہی ہے کہ ان سامانوں سے کام نہیں لیا جاتا۔ جو اس کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ اگر ان سامانوں سے کام لیا جائے تو ممن نہیں کہ اتفاق و اتحاد نہ ہواس کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ وہ کیا سامان ہیں ہو یا د رکھنا چاہیئے کہ مختلف مذاہب کے لیے مختلف ذرائع ہیں۔ مگر اسلام میں اتفاق کا ذریعہ دین واحد پر جمع ہونا ہے۔ اور لوگوں کے لیے اور ذرائع ہونگے۔ مگر مسلمانوں کے لیے بجز اسلام کے اور کوئی نہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَاعْتَو و الجبل اللهِ جَمِيعًا - کہ اللہ کے رسے کو مضبوط پکڑ لو اور اختلاف نہ کرو۔ دوسری قومیں ظاہری سامانوں سے اتفاق کر سکتی ہیں مگر اسلام میں اتفاق کا ذریعہ صرف ایک ہی ہے کہ جبل اللہ کو پکڑا جاتے اور جل اللہ کیا ہے ؟ وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں۔ قرآن کریم میں ہے ۔ اسلام کیا ہے ؟ وہ جو انبیا۔ احکام لیتے ہیں پس انبیاء بھی حبل اللہ ہیں۔ رسول کریم حبل اللہ ہیں اور مسیح موعود حبل اللہ ہیں۔ قرآن کریم حبل اللہ ہے انکو پکڑے بغیر اتفاق نہیں ہو سکتا۔ پس اگر اتفاق ہو سکتا ہے ۔ تو اسی طرح کہ اسلام کو مضبوط پکڑا جاتے۔ اور اسلام محض نماز روزے کا نام نہیں ۔ بلکہ اسلام نام ہے اخلاق کے ان اصول کا جن پر چل کر اتفاق و آشتی پیدا ہو اور نا اتفاقی دور ہو۔ اسلام کوئی ٹونا ٹوٹکا نہیں کہ بس ادھر اسلام کا نام لیا اور ادھر اتفاق و اتحاد پیدا ہو گیا۔ جیسا کہ عوام جہلا میں مشہور ہے کہ پیپل کے درخت کے گرد سات چکر کچے دھاگے کے ساتھ لگاتے جائیں تو فلاں