خطبات محمود (جلد 6) — Page 215
۲۱۵ کی طرف سے ایک نبی آیا کہ ان کو انعمت علیہم میں داخل کرے مگر انہوں نے اس کا مقابلہ کیا اور ایسا مقالہ کیا کہ جتنی شرارتیں کہ متفرق طور پر سب نبیوں کے مقابلہ میںکی گئیں وہ سب کی سب آپ کے مقابلہ میں اور آپ کو دکھ دینے کے لیے کی گئیں۔ جو شرارت میں حضرت موسی کے مخالفوں نے موسی کے مقابلہ میں کہیں حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں کی گئیں۔ جو کچھ میسی کے مقابلہ میں کیا گیا وہ آپ کے مقابلہ میں کیا گیا۔ جو براہی کے مقابل میں کیا گیا وہ ہیں بھی کیاگیا۔ اگر یوں نے نیا کو تل کرنا چاہا تو ہیں بھی مل کر کی کوشیش کی گئیں ۔ اگر پہلے نبیاء کو ذلیل کرنا چاہا گیا۔ توآپ کو بھی ڈیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ غرض وہ تمام حرکتیں آپ کے مقابلہ میں کی گئیں جو پہلے نبیوں کے مقابلہ میں کی گئی تھیں جن سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود بروز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آنحضرت وارث ہیں تمام انبیاء کی صفات کے لیکن جہاں یہ ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز میں وہاں یہ بھی پتہ لگ گیا۔ کہ آپ کے مخالف بروز میں پہلے تمام انبیاء کے مخالفین کے، اور چونکہ انہوں نے تمام وہ شرارتیں ہیں جو پہلے انبیاء کے مقابلہ میں کی گئیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر ایک رنگ کے عذابوں کا نمونہ دکھایا ۔ نوح کے وقت کا عذاب اس نے دکھایا۔ ابراہیم کے مخالفوں کو جو عذاب دیئے گئے تھے ۔ وہ یہاں آتے۔ اسمعیل و اسحاق دیوسف کے مخالفوں کے عذاب کے نمونے یہاں دکھائے گئے ۔ غرض جسقدر قو میں گزریں ہیں ان کو جو عذاب دیتے گئے تھے۔ وہ سب عذاب اس زمانہ میں بھیجے گئے تا لوگوں کی آنکھیں کھلیں ۔ زلزلوں اور آندھیوں نے ملکوں کوتہ و بالا کر ڈالا ۔ آسمان سے پتھر برسے ۔ زمین کے پر خچے اڑ گئے۔ دور کی بات تو الگ رہی ۔ یہاں سے پچاس میل کے فاصلے پر کانگڑہ ہے۔ وہاں یہ نظارے دیکھنے میں آتے۔ پھر طوفان آئے اور ایسے آتے کہ ہزاروں لاکھوں غرق ہو گئے۔ قحط پڑے اور ایسے پڑے کہ ہٹنے میں ہی نہیں آتے۔ بیماریاں پڑی پر ایسی پڑیں کہ ان کے نام تک کسی نے پہلے نہیں گئے تھے ۔ طاعون پھوٹی ہیضہ پھیلا۔ بخار آیا۔ مگر لوگوں نے کہا کہ طاعون آیا ہی کرتی ہے مہینہ پھیلا ہی کرتا ہے۔ بخار ہوا ہی کرتے ہیں۔ انفلوائنزا پہلے بھی پھیل چپ کا ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مبتلا رہتے ہیں کہ اس قسم کا انفوا منا جو ایسا زہریلا ہو بھی نہیں آیا جیسا کہ گذشتہ ایام میں گزرا ہے ۔ اب ایک نیا بخار پھیلا ہے۔ جس کا نام قحط کا بخار رکھا گیا ہے۔ اس کی یہ کیفیت ہے کہ ایک ہفتہ چڑھتا ہے پھر اتر جاتا ہے۔ ہفتہ بعد پھر چڑھتا ہے۔ اسی طرح کئی کئی دورے کرتا ہے۔ اس سے لوگ مر بھی جاتے ہیں اور بیچ بھی رہتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں طاعون - انفلوائنزا اور بخار ہیضے وغیرہ پہلے بھی پھیلتے تھے۔ کیا ہوا اگر اب پھیل گئے ؟ مگر ہم کہتے ہیں کہ ہم تسلیم کرتے ہیں۔ پہلے بھی یہ امراض