خطبات محمود (جلد 6) — Page 204
۲۰۴۷ اس کی یہی وجہ تھی کہ کپڑا مہیا نہیں ہوتا تھا۔ جلا ہوں کی بیشک یہ غرض نہیں ہوتی۔ کہ زید و بکر کو فائدہ پہنچے، مگر اس میں کلام نہیں کہ ہم ان کے کام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور یہ خدا کا ہم پر احسان ہے تو اگر ہم ایک کپڑے کے کارخانہ دار کو قتل کرتے یا اس کا کارخانہ جلاتے ہیں تو بے شک اس کی احسان فراموشی نہیں کرتے، مگر کیا خدا کی بھی احسان فراموشی نہیں کرتے جس نے اس کے ذریعہ سے ہم پر احسان کیا تھا۔ اس طرح ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ گورنمنٹ کا ہم پر احسان نہیں ۔ مگر کیا خدا کا بھی اس ذریعہ سے ہم پر احسان نہیں ہے ؟ اور کیا خدا کی احسان فراموشی کوئی چھوٹی اور ادنی چیز ہے ؟ ان شورش کے ایام میں ہماری جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے جس نے خلوص کیساتھ فرمانبردارنی دکھائی ۔ در حقیقت یہ بھی ایک ثبوت ہے ہمارے حق پر ہونے کا کیونکہ خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة تھا۔ والسلام کے ذریعہ ہم پر احسان کیا تھا اور ہم نے اس احسان کی خدا کے فضل سے سے قدر کی اور آپ کو مانا : لیکن ہمارے مخالفوں نے خدا تعالیٰ کے اس احسان کو رد کر دیا تھا۔ چونکہ ہم نے اس احسان کو مانا تھا اس لیے ہیں خدا کے دوسرے احسانوں کے قدر کرنے کی بھی توفیق دی گئی اور جو مخالف تھے وہ عادی تھے کہ خدا کے احسانوں کو رد کر دیں چنانچہ انھوں نے اس احسان کو بھی جو امن کی صورت میں ان باکر کیا گیا تھار کر دیا۔ ہم نے جو کچھ کیا وہ ہمارا حق تھا اور جو کچھ ا؟ تھا اور جو کچھ انھوں نے کیا ان سے یہی ظاہر ہونا چاہیئے تھا۔ کو غرض اس وقت ہماری ہی جماعت ہے جو بحیثیت جماعت اس احسان فراموشی سے بچی رہی جو ہندوستان کی مختلف اقوام سے اس وقت ظاہر ہوتی ہے ۔ مگر میں اس وقت آپ لوگوں کو نصیحت کرنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں کہ آپ لوگوں کا یہی فرض نہیں کہ خود ان فسادوں سے بچیں۔ بلکہ آپ وگوں کا فرض ہے کہ دوسرے لوگوں کوبھی ان حرکات سے از یکیں کیونکہ اگر ہمسائے کے گھر بھاگ گئی ہوئی ہو تو کوئی دانا خاموش ہو کر نہیں بیٹھا رہے گا۔ وہ اس آگ کو بجھانے کی طرف توجہ کریگا۔ پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ ہمسایوں کی آگ کو بجھائیں۔ قرآن کریم میں آتا ہے لا تَرْحَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَتَكُمُ النَّار (هود : ۱۱۴ کہ ظالموں کے پاس رہنے کا نتیجہ ہوگا کہ آگ تم کو بھی پکڑے گی۔ دیکھ لو لاہور میں جو فوجی قانون جاری ہو رہے ہیں ۔ ان میں کوئی بات ایسی نہیں جو وفادار اور غیر وفادار میں امتیاز کرنے والی ہو۔ یعنی اگر کوئی وفادار شخص بھی رات کے مقررہ وقت کے بعد بغیر اجازت سرکار گھر سے نکلے گا تو اس سے بھی وہی سلوک ہوگا جو ایک غیر وفادار سے ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جو کچھ پہنچا اس میں سے ہماری جماعت کو بھی پہنچا۔ اگر ہم انکو باز رکھ سکتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ