خطبات محمود (جلد 6) — Page 194
۱۹۴ پیدا کرنے کی ہے۔ تو کتنا بڑا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن جب ترجمہ کر کے ان سے سوال کیا جاتا ہے تو اس بات کے کہنے سے اُن کا دل کانپ جاتا ہے ۔ در حقیقت یہ محض انکسار ہی نہیں ہوتا بلکہ واقعہ میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں جو اس غرض کو پورا کرتے ہیں۔ ہاں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو اس کوشش میں لگے ہوتے ہیں اور وہ انہی میں ہیں، سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے اس غرض کو پورا کر دیا ہے ۔ کیونکہ اسلام نے کوشش کرنے والوں کو بھی اسی میں نے اس فرض کوپورا کردیا ہے کیونکہ سلام مد میں رکھا۔ رکھا ہے جس میں کام کو پورا کرنے والے ہوتے ہیں۔ مثلاً جو لوگ حج کو جاتے ہوتے رشتہ ہے جس میں میں مر جاتیں ان کو حج کا ثواب ملے گا۔ اور جو نماز کے انتظار میں مرجائیں ان کی موت نمازہ کی حالت میں شمار کی جائیگی۔ پس وہ بندہ جو عبادت کی کوشش میں ہے کہ سکتا ہے کہ وہ اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کر چکا۔ کیونکہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ٢٨٧) اللہ تعالیٰ نے کسی نفس کی طاقت سے زیادہ بوجھ اس پر نہیں رکھا۔ پس جو شخص حتی المقدور کوشش کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہ میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں، لیکن جو گوشش بھی نہیں کرتا مگر کہتا ہے کہ ایاک نعبد میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔ یعنی اس غرض کو پوری کر چکا ہوں جس کے لیے تو نے مجھکو پیدا کیا تو وہ جھوٹ بولتا ہے وہ خدا کے سامنے افتراء کرتا ہے اس لیے بجائے اس کے کہ اس کو اجر ملے وہ عذاب میں گرفتار کیا جائیگا۔ پس إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتے ہوئے بڑا خوف دل میں رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اگر اس نے واقعہ میں عباد نہیں کی ۔ یا اس کی راہوں پر چلنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اور پھر وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس وقت تک کی عبادت کر چکا ہوں۔ تو وہ جھوٹ سے کام لیتا ہے اور خدا کے سامنے افتراء کرتا ہے ۔ اب رہا یہ سوال کہ عبادت کیا چیز ہے یہ ایک بہت بڑا مضمون ہے اس کے بیان کرنے کا وقت نہیں ہے اس لیے اب میں ختم کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی توفیق دے کہ ہم اس غرض کو پورا کریں جس کے لیے اس نے ہمیں پیدا کیا ہے ؟ الفضل ۱۲ را پریل ماله )