خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 188

۱۸۸ یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے ایک دفعہ پڑھ کر مثلاً سورۃ فاتحہ کے تمام مطالب کا احاطہ کر لیا ہے اور اسکے لیے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہ ارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں تو وہ غلط کہتا ہے۔ یاد رکھو کہ ہر ایک کلام کے متعلق یہ بات ہے کہ جوں جوں انسان اس کے متعلق مشق کرتا ہے اس کا دماغ جلا پاتا جاتا ہے پیس اسی طرح جب انسان قرآن کے علوم پر غور کرتا ہے تو ہر دفعہ نئے علوم اس کو عطا ہوتے ہیں۔ اس لیے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس نے قرآن کے علوم کو ختم کر لیا۔ حتی کہ سب سے بڑے قرآن کے جانے والے محمد صل اللہ علیہ وسم بھی نہیں کہ سکتے کہ آپ نے قرآن کے علوم کو ختم کر لیا گیا جو لوگ جنت میں داخل ہو گئے ان کے لیے مدارج ختم ہو گئے۔ نہیں ان کے مدراج بھی ترقی کر رہے ہیں انحضرت کے مدارج میں بھی ترقی ہو رہی ہے۔ اگر آپ کے مدارج ختم ہو جاتے تو یہ درود کیوں سکھایا جانا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على إبراهيم وعلى ال ابراهيم انك حميد مجید اور بھی پھر اگر آپ کے لیے تمام ترقیات ختم ہو گئی تھیں تو یہ دعا سکھانے کی کیا ضرورت تھی ۔ اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على ابراهيم وعلى ال ابراهيم انك حميد مجيد - مومن یہ اسی لیے پڑھتا ہے ۔ تا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسم کو جس قدر مدارج حاصل ہو چکے ہیں ان میں اور اور زیادتی ہو۔ پس آپ کے مارج بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے آپ پر بھی علوم ختم نہیں ہوئے ۔ الراب ۔ جن معنوں میں قرآن کا ختم ہو جانا کہا جاتا ہے اس کا یہی مطلب کہ حروف و الفاظ کو ختم کر لیا۔ یہ مت کو اور ہر گز مت سمجھو کہ قرآنی علوم کو ختم کر لیا۔ جب تم اپنے دل میں یہ خیال کر کے قرآن کریم کو پڑھو گے کہ تم نے ابھی اس کو ختم نہیں کیا اور یہ کہ اس کے علوم لا محدود ہیں۔ اگر کوشش کریں گے تو نئے نئے علوم حاصل ہونگے۔ تو اس وقت دیکھو گے کہ ہر بار نتے علوم اور نئے معارف تمہیں حاصل ہونگے۔ مگر جو انسان یہ خیال کرے کہ جو کچھ اس نے کرنا تھا وہ کرچکا۔ کبھی ترقی نہیں کرسکتا، لیکن و خیال کریگا او جانے گا کہ ابھی اس نے بہت کم کیا ہے اور بہت زیادہ کتا ہے وہ بہت کچھ کرلیگا۔ دنیا میں دیکھو جن لوگوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اس دنیا اس سے زیادہ نہیں جس قدر ہمیں معلوم ہے ۔ وہ اس سے زیادہ معلوم نہ کرسکے مگر جن کو کسی طریق سے پتہ لگ گیا کہ زمین بھی نہیں جو نہیں معلوم ہے انھوں نے اور بھی بہت سی زمین کا پتہ لگا لیا۔ اور کئی جزیروں کا ان کو علم ہو گیا۔ پس اسی طرح جو سمجھتا ہے، کہ اس نے علوم کو ختم کر لیا ہے وہ ترقی نہیں کر سکتا اور جو ابھی اپنے آپ کو محتاج جانتا ہے اور سمجھتا ہے