خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 18

۱۸ پراگندہ کر کے تباہ و بر باد مغلوب و منور کر دیا مگر پھر بھی انہیں ہوش نہ آئی اور اپنی بربادی سے آگاہ نہ ہوتے یورپ میں ایک دفعہ مذہبی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور سارا یورپ اس بات کے لیے تیار ہوگیا تھا کہ اسلام کو صفحہ دنیا سے مٹادے ۔ اس کے لیے یورپ کے بڑے پوپ نے ایک اعلان عام کیا کہ لڑنے کی طاقت رکھنے والوں کا فرض ہے کہ مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں اور جو لڑ نہیں سکتے ان کا فرض ہے کہ لڑنے والوں کی ہر طرح سے مدد کریں ۔ اس پر بڑے بڑے نوابوں اور امیروں نے اپنی جائدادیں فروخت کر کے مدد دی۔ خود لڑنے لگے۔ اور یہاں تک کہ چونکہ انجیل میں آتا ہے کہ بیچنے خدا کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں ۔ کیونکہ وہ بے گناہ ہوتے ہیں اس لیے انھوں نے کئی ہزار نا بالغ بچے لڑائی میں بھیج دیتے کہ قربان ہو جائیں ۔ اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ اپنے ارادہ کو کتنی بڑی بڑی قربانیاں کرکے پورا کرنا چاہتے تھے اور اس پر کیسے قائم اور تحکم تھے۔ انھیں کامیابی تو کیا ہوئی تھی مگر ان کا یہ فعل دلالت کرتا ہے کہ اُنھوں نے ہر ایک وہ تدبیر جو کامیابی کے لیے ان کے خیال میں آسکتی تھی اس پر عمل کیا۔ اور تمام فرقے جو آپس میں سخت عداوت اور دشمنی رکھتے تھے اور لڑتے جھگڑتے رہتے تھے ایک ہو کر مسلمانوں کو مٹانے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے، لیکن اُس وقت مسلمانوں میں جن کو حکم تھا کہ ایک انتظام کے ماتحت رہیں۔ وہ ایک ایسی قوم کے مقابلہ میں جس نے اپنا انتظام اپنے طور پر بنایا ہوا تھا اور جو مکہ مدینہ اور بیت المقدس کو تباہ و برباد کرنے کے لیے حملہ آور ہو رہی تھی مسلمانوں میں ایک سے زیادہ شائیں ایسی ملتی ہیں کہ مسلمان بادشاہوں نے عیسائیوں کو خطوط لکھے کہ ہم تمہاری مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر چاہو تو ہم اپنا لشکر لے کر آجائیں۔ پھر انھوں نے خفیہ سامان اور مال بھیجے مسلمانوں کے خلاف جہاں تک ہو سکتا تھا ریشہ دوانیاں کیں لیے اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے اس حملہ کو نو روک دیا۔ جو اُنھوں نے ایسے مذہبی جوشش کی وجہ سے کیا تھا۔ جس سے ان میں عدل و انصاف مٹ چکانی تھا رحم اور خدا ترسی سے خالی ہو چکے تھے۔ جب کوئی علاقہ فتح کرتے تو اس میں رہنے والی عورتوں اور بیجوں تک کو جلا دیتے ۔ اور ہر ایک قسم کے مظالم کرتے تھے۔ مگر باوجود اس کے کئی مسلمان اس بات م کے لیے تیار تھے کہ ان کی مدد کریں ۔ اور مسلمان مقابلہ کرنے والوں کو تباہ و برباد کرنے میں حصہ لیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص نصرت اور تائید سے عیسائی حملہ آوروں کو اپنے ارادہ میں ناکام رکھا۔ مگر مسلمانوں کی طاقت جو دن بدن بڑھتی جا رہی تھی ۔ نہ صرف رک گئی بلکہ پاش پاش ہوگئی۔ ل متی کے تاریخ اسلام مرتبہ شاہ معین الدین ندوی جلد چهارم حالات صلیبی جنگیں