خطبات محمود (جلد 6) — Page 168
vhi پس ایسے موقعوں پر مناسب چیزیں نہیں مل سکتیں۔ نہ پورے طور پر ایسے مکانات مل سکتے ہیں جو کافی آرام دہ ہوں ، نہ چار پائیوں کا پورا انتظام ہوتا ہے۔ زمین پر ہی لیٹنا پڑتا ہے ۔ پھر سفر میں جو بستر ہمراہ ہوتا ہے وہ بھی کافی نہیں ہوتا۔ پس ان وقتوں کی وجہ سے ایک قسم کی کمزوری انسان میں پیدا ہو جاتی ہے اور وہ چڑ چڑا ہو جاتا ہے۔ یہ درست بات ہے کہ انسان میں جتنی طاقت ہوگی اتنا ہی وہ حلیم الطبع ہوگا لیکن جبنا کمزور ہوگا ۔ اتنا ہی چڑ چڑا ہو گا۔ تو سفر میں کمزور صحت والوں کے لیے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ غرض ان تمام حالتوں میں مہمانوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور میزبانوں کے لیے بھی بڑے اجتماعوں میں مشکل ہوتی ہے ۔ ہمارے سکولوں کے بچے شوق رکھتے ہیں کہ ان ایام میں مہمانوں کی خدمت کریں۔ اور وہ خوشی سے کرتے ہیں، لیکن چونکہ ان کو تجربہ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ مہمانوں کی ضرورتوں کو بھی بعض اوقات پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے جولوگ تجربہ کار ہیں۔ ضرورت ہے کہ وہ ان بچوں کے نگران مقرر کئے جائیں کہیں جو لوگ اس کام کو کر سکتے ہیں۔ جہاں تک ہو سکے وہ مہمانوں کی آسائش میں ہاتھ بٹائیں، لیکن یہ ابھی سے ہونا چاہیئے تاکہ افسر اُن لوگوں کے متعلق کام تجویز کر سکیں ۔ اگر وقت پر کہا جائیگا تو وہ ان کے لیے کام نہیں تجویز کر سکیں گے۔ کیونکہ کسی کے لیے مناسب کام تجویز کرنا بھی بڑے غور و فکر کا کام ہوتا ہے لیس جلدی اپنی خدمات کو پیش کر دینا چاہیئے ۔ تاکہ ان کو وہ کام سپر د کتے جائیں جن کے وہ اہل ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مہمان کی عزت و اکرام ایمان عزت و اکرام ایمان میں داخل ہے یہ پیس؟ ہو پس چاہتے کہ اپنے مہمانوں کے آرام و آسائش کے سامان جہاں تک ان سے ہو سکے مہیا کر کے اپنے ایمانوں میں احباب - زیادتی کریں۔ خدا تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔ آمین : الفضل ، مارچ شاته ) بخاری کتاب الادب باب اكرام الضيف