خطبات محمود (جلد 6) — Page 154
اوله کے اصل مطلب سے بہت کم واقف ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جو دینی جوش کی وجہ سے اپنے مالوں کو کرتبوں کو وطنوں کو اور خویش و اقارب کو چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ایک ذلیل سی بات پر ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔ ان کی قربانیاں جوش کے باعث ہوتی ہیں، لیکن چونکہ ان میں کامل معرفت نہیں ہوتی۔ اس لیے قائم نہیں رہ سکتے ۔ مذہبی جوش سے ہر مذہب کے لوگ قربانیاں کرتے ہیں۔ جیسے کہ عیسائی بھی بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں حالانکہ عیسائیت سچا مذہب نہیں مگر باوجود اس کے ان کی عورتوں تک میں استقدر قربانی کا جوش ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں عیسائی عورتیں ٹکڑے ٹکڑے کی گئیں ۔ مگر ان کی جگہ پر فوراً دوسری پہنچ گئیں۔ مگر عیسائیوں میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی عمر کا بڑا حصہ مشن کی خدمت میں بڑے جوش سے صرف کرتے ہیں، لیکن اخیر محمد یں عیسائیت کی تردید ی کوچ سوچ کر اعتراض شائع کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ ان میں نئے نئے چرچ قائم ہوتے رہتے ہیں اور ان نئے چرچوں کے بانی عموماً ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی عمر کا بڑا حصہ عیسائیت کی خدمت میں گذرا ہوتا ہے۔ پس ان کی قربانی تو ہوتی ہے، لیکن چونکہ وہ عرفان کے ماتحت نہیں ہوتی اس لیے وہ قربانی قربانی نہیں کہلا سکتی، لیکن جو شخص عرفان کے ماتحت قربانی کرتا ہے اگر زمین و آسمان بھی مل جائیں تو بھی اس کے عقیدہ میں تزلزل پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے۔ جیسا کہ ایک بچہ ہوتا ہے وہ ایک عورت کو پیچھے سے دیکھتا ہے اور اس کے قدو قامت و لباس وغیرہ سے یقین کر لیتا ہے کہ یہی میری ماں ہے۔ وہ خوشی سے دوڑتا ہوا اس کو لپٹ جاتا ہے، لیکن جونہی کہ وہ عورت اس کی طرف دیکھتی ہے وہ شرمندہ ہو کر اس سے الگ بھجاتا ہے۔ وہ پیچھے اخلاص اور سچی محبت سے اس کی طرف دوڑتا ہے لیکن جب اس کو صحیح معرفت ہوئی تو اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص عدم معرفت کی حالت میں قربانیاں کرتا ہے اس میں جوش بھی ہوتا ہے اخلاص بھی ہوتا ہے مگر جب وہ اسکو اپنے خیال کے مطابق نہیں پاتا تو اسے علیحدہ ہوجاتا ہے او سخت ابلا میں پڑھاتا ہے پھر ایک ایسا بچہ ہوتا ہے جو اپنی ماں کو دیکھتا ہے پہچانتا ہے اور پھر اس کو لپیٹ جاتا ہے ۔ اس صورت میں ماں خواہ اس کو علیحدہ کر دے۔ جیسا کہ گرمی کے موسم میں ہوتا ہے کہ ماں پسینہ سے شرابور ہوتی ہے اور بچہ اُس کو لپٹتا ہے اور وہ اس کو علیحدہ کر دیتی ہے۔ مگر باوجود جھڑ کئے اور غصہ ہونے اور بعض حالتوں میں تھپڑ بھی کھانے کے وہ اپنی ماں کونہیں چھوڑتا۔ بلکہ جوں جوں ماں ایسے مارتی ہے جھڑکتی ہے وہ اور زیادہ اس کی گود میں گھستا جاتا ہے۔ بعینہ وہ شخص حسن کو خدا تعالیٰ کی حقیقی معرفت حاصل ہو جاتی ہے ۔ وہ ہرگز مصائب اور دکھوں اور ابتلاؤں سے نہیں گھبراتا اور اس کا قدم ذرا نہیں ڈگمگاتا۔ "