خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 15

۱۵ چھوڑ دیا ۔ یہ ہے سورہ فاتحہ جس کا ہر رکعت میں پڑھنا ضروری ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ اہر وسلم نے فرمایا ہے ۔ اس کے پڑھنے کے بغیر نماز ہی نہیں ہو سکتی لیے یہیں استخارہ ہے ۔ صرف نام کا فرق ہے ۔ اسی کو سورۃ فاتحہ کہا جاتا ہے اور دوسر سے وقت اسی کا نام استخارہ رکھا جاتا ہے۔ دیر سے استخارہ کے معنی خیر مانگنا ہے اور اس خیر مانگنے کا طریق سورۃ فاتحہ میں بتایا گیا ہے ۔ اس لیے استخارہ کرنا اور سورہ فاتحہ پڑھنا ایک ہی ہے فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ سورہ فاتحہ پڑھتے وقت ہر ایک بات ہر ایک معاملہ اور ہر ایک کام کے متعلق خیر طلب کی جاتی ہے، مگر استخارہ کرتے وقت کیسی خاص معاملہ کے متعلق خیر طلب کی جاتی ہے۔ تو اسلام نے سب عبادتوں کی جڑ استخارہ ہی کو مقرر کیا ہے ۔ خدا کی تعریف بیان کر کے اپنی عبودیت کا اظہار کرنا کیا ہوتا ہے۔ یہی کہ انسان خدا تعالیٰ کا مطیع اور فرمانبردار ہو جائے اور ور ہی کام کرے جو خدا اسے بتاتے اور جو خدا کی منشاء کے ماتحت ہو۔ سورہ فاتحہ میں ہی بتایا گیا ہے کہ خدا مرا سے سے پوچھو کہ فلاں کام ہم کس طرح کریں ۔ اگر چہ کرنے والے کاموں کے متعلق شریعت نے احکام بتا دیتے ہیں، لیکن وہ عام طور پر ہیں اور عام باتیں خاص لوگوں کے لیے نہیں ہوتیں ۔ بلکہ ان کو خاص طور پر بتائی جاتی ہیں۔ انھیں کے دریافت کرنے کے لیے سورہ فاتحہ میں درخواست کی جاتی ہے اور انسان خدا تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ میں اپنے متعلق خود کوئی راستہ اختیار نہیں کرتا۔ جو آپ بتائیں گے اسی پر چلونگا۔ یہی استخارہ ہوتا ہے۔ جو ہر رکعت میں کیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ جب کسی امر کے متعلق استخارہ کیا جائے تو ضرور ہے کہ اسکے بارے میں خدا کی طرف سے انھیں آواز کے ذریعہ بتایا جائے کہ کرویا نہ کرو، لیکن کیا سورۃ فاتحہ فاتحہ پڑھنے کے بعد انھیں کوئی آواز آیا کرتی ہے ۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ جو کام وہ کرتے ہیں اس میں برکت ڈالی جاتی ہے اور جو نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ ان سے روکا جاتا ہے۔ یہی بات استخارہ میں ہوتی ہے خدا تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے کہ اگر فلاں کام میرے لیے مفید اور فائدہ بخش ہے تو اس کے کرنے کی توفیق دے اور اگر نہیں تو اس سے مجھے باز رکھ لے۔ میں نہیں جانتا کہ اس کے متعلق تیری کیا مرضی ہے ممکن ہے ہیں اسے تیری رضا کے ماتحت سمجھوں اور ہو اس کے خلاف اس لیے میں تیری رضا کے آگے اپنے آپ کے ڈال دیتا ہوں جس طرح تیری مرضی ہے اس کے مطابق مجھے چلا۔ یہ استخارہ ہوتا ہے ۔ اس پر خدا تعالے کبھی بتا بھی دیتا ہے ، لیکن ضروری نہیں کہ بنائے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ انسانوں کے ماتحت نہیں ۔ بلکہ له بخارى كتاب الاذان باب وجوب القراءة للامام والماموم في الصلوات كلها کو