خطبات محمود (جلد 6) — Page 148
الله 28 جماعت کے سیمی کی خبر لو فرموده ۳۱ جنوری شامله ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے سورۃ بقرہ کی مندرجہ ذیل آیت تلاوت فرمائی، لَيْسَ الْبَرَآنُ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَالكِنَّ الْبَرَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ الْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ وَاي الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَنى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ و في الرقابِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَالَّى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّبِرِينَ فِي البَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ۔ (البقره (۱۷۸) اور پھر فرمایا :- نیکی اور تقویٰ کے متعلق لوگوں میں عام طور پر اختلاف ہے مختلف جماعتیں مختلف قومیں۔ مختلف مدارج کے لوگ اور مختلف زمانوں کے لوگوں کے نزدیک نیکی کی تعریف مختلف رہی ہے ۔ ربان نیکی کی تعریف کچھ اور کرتےہیں اور مرا۔ کچھ اور پھر مالک کے لحاظ سے بھی نیکی کی تعریف میں اختلاف ہے۔ ہندوستانی نیکی کی اور تعریف کرتے ہیں اور عرب والے نیکی کی کچھ اور ہی تعریف بتاتے ہیں۔ مصری اور چینی کچھ اور ایرانی نیکی کسی اور چیز کو قرار دیتے ہیں ۔ ہندوستان میں حاجی بڑے نیک شمار ہوتے ہیں۔ یہاں پر ایک شخص صوم صلوہ اوردیگر احکام شری کا خواہ کتنا ہی پابند کیوں نہ ہو۔ لوگ اس کے مقابلہ میں عام طور پر ایک حاجی کو ہی ترجیح دیں گے خواہ اس نے سفرحج میں اپنے تمام اوقات فضول اور لغو طور پر ہی ضائع کئے ہوں اور حج کرنے کے اوقات اور پر ہوں بعد بھی اپنے اعمال میں کوئی تغیر نہ کیا ہو۔ اور صوم و صلوۃ کا بھی چنداں پابند نہ ہو۔ تاہم اس کی اس نیکی کا اظہار لفظ "حاجی" اس کے نام کے ساتھ لگا کر کریں گے ۔