خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 143

۱۴۳ 26 " خدا کی نعمتوں کی قدر کرو ) فرموده و از جنوری شاه ) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- بعد :- اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس قدر حمد کے موقعے رکھے ہیں کہ اس کی انتہانہیں انسان پراللہ تعالی کے اس قدر احسان ہیں کہ در حقیقت ہماری طاقت میں نہیں کہ ہم اس کے احسانات کو گن یکی اور نہ یہ ہماری قات میں ہے کہ ان احسانات کے شکریہ کے لیے کوئی لفظ وضع کر سکیں اور نہ ہماری لغت میں اس کے لیے کوئی لفظ ہے۔ بیشک ہماری لغتوں میں بے شمار الفاظ ملتے ہیں جو اللہ تعالی کے شکریہ کے موقع پر استعمال ہوتے ہیں، لیکن ہمارے بے شمار کا بھی ایک شمار ہوتا ہے اور ہمارے بے انتہا ئی بھی ایک انتہا۔ ہوتی ہے۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رنجیت سنگھ نے اپنے دربار میں کہا کہ اسلام پر ہمار مذہب کی برتری کی یہ دلیل ہے کہ بانی اسلام نے صرف ایک چاند اور ایک سورج بتایا ہے مگر ہمارے گروہوں نے بتایا ہے کہ بے شمار چاند اور بے انت سورج ہیں ۔ دربار میں ایک مسلمان وزیر بھی تھا ۔ اس نے کہا اگر اجازت ہو تو میں اس کا جواب دوں۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ ہاں اس کی اجازت ہے وزیر نے کہا کہ ایک دربار کو صاف کرنے والے بھنگی کو بلواتے، بھنگی بلوایا گیا۔ وز برنے اس سے سوال کیا کہ مہاراج کی کتنی فوج ہے۔ بھنگی نے جواب میں کہا۔ جی کوئی انت ہے۔ بھینگی کو واپس کر کے وزیر نے کہا کہ اب ایک فوج کے سپاہی کو بلوایتے ۔ سپاہی حاضر ہوا۔ وزیر نے وہی سوال کیا ۔ سپاہی نے جواب دیا کہ مہاراج کی فوج میں کروڑوں سپاہی ہیں ۔ سپاہی کو بھی واپس کر دیا گیا۔ پھر جنرل صاحب سے یہی سوال دوہرایا۔ جنرل نے کہا حضور سوا لاکھ فوج ہے۔ وزیر نے رنجیت سنگھ سے سوال کیا ، حضور اب فرمائیں کہ ان تینوں میں سے کون علم والا ہے ۔ اس گفتگو سے رنجیت سنگھ خاموش ہو گیا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہر شخص کے نزدیک بے انت اور بے انتہا کی تعریف اس کے علم کے مطابق ہوتی