خطبات محمود (جلد 6) — Page 136
۱۳۶ 25 مختصر وعظ کو بھی توجہ سے سننا چاہیئے ) فرموده ۲۷ دسمبر شاشاته ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- چونکہ باہر سے کچھ دوست آتے ہوتے ہیں اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اللہ تعالی چاہے تو کل چند منٹ ان کے لیے کچھ بیان کروں ۔ اگر چہ خطبہ اسی غرض سے ہوتا ہے کہ اس میں ایسے امور بیان کئے جاتے ہیں۔ جو سماعت کے لیے مفید ہوتے ہیں، لیکن آج کسی قدر میرے حلق میں تکلیف ہے۔ اس لیے آج کی بجائے کل پیر اٹھا رکھتا ہوں ۔ کل پر اس وقت مختصر طور پر سورۃ فاتحہ کی آیت اهدنا الصراط المستقیم کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ میں نے بار بارہ بیان کیا ہے کہ اس زمانہ کے مصائب میں سے ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ لوگ مختصر بات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ کہا تو جاتا ہے کہ قتل و دل اچھا کلام وہی ہوتا ہے جو مخصر اور بادلائل ہو، لیکن باوجود اس کے اگر دو ایک فقروں میں کوئی بات کہی جائے تو لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ جس طرح لوگوں کو اور عادتیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں کو لیکچر سنے کی عادت ہوتی ہے ۔ پھر جس طرح مثلاً افیونی کی عادت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ تو افیون کی مقدار میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو تقریر سننے کی عادت ہوتی ہے، وہ بھی جوں جوں پرانے خوانٹ ہوتے جاتے ہیں ان کی یہ عادت بھی ترقی کرتی جاتی ہے۔ ان لیکچر سنے والوں میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ لیکچرار نے اتنی دیر تک تقریر کی مگر اس مجلس میں بہت کم ہوں گے جو یہ سوچیں گئے کہ کیا کہا یہ تو کہیں گے کہ چار گھنٹہ تقریر کی مگر اس سے غرض نہیں رکھیں گے کہ اس چار گھنٹہ کی تقریر میں بیان کیا گیا۔ تو بہت لوگوں کے نزدیک کسی مقررہ کا کمال یہ ہوتا ہے کہ جس کا خلاصہ وہ ان الفاظ میں بیان کیا کرتے ہیں۔ کہ فلاں شخص بڑا صاحب کمال ہے کہ اس نے اتنی دیر تک تقریر کی، لیکن وہ اس کی