خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 132

ہیں، جو پیتے دل سے اسلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر با وجود اس یقین کے وہ شریعت پر عمل نہیں کرتے۔ اگر ان کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیا جائے تب بھی مسلمان کہلانے سے انکار کرنا پسند نہیں کریں گے، لیکن عملی طور پر اسلام پر نہیں چلیں گے۔ یہی حالت دوسرے مذاہب کے لوگوں کی ہے، مگر با وجود اس جاں نثاری کے ان کے اعمال اس مذہب کے مطابق نہیں ہوتے ۔ پس جو لوگ کسی کے کامل ایمان کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اس کے ثمرات دیکھیں کہ آیا اسکی عبادات شریعت کے مطابق ہیں ۔ یا نہیں ۔ وہ اس کے احکام کا خیال رکھتا ہے یا نہیں ۔ اور کیا ایسی حالت ہے یا نہیں کہ بھول کر بھی خدا کی نافرمانی کا خیال دل میں پیدا نہیں ہوتا۔ جس کی فطرت صحیحہ ہوگی وہ چاہیگا کہ و تار جس کی ہوئی وہ اس کا ایمان کامل ہو۔ کیونکہ کوئی شخص اچھی چیز کو چھوڑ کر بری کو ہرگز نہیں اختیار کرے گا اور عمدہ اور طبیب رزق کو چھوڑ کر سڑے اور گلے رزق کو نہیں کھائیگا۔ ہیں اسی فطرت صحیحہ والا شخص یہی چاہے گا کہ اس کا ایمان کامل ہو۔ یہ نہیں چاہے گا کہ اس کا ایمان نا مکمل اور ادھورا ہو، لیکن کامل ایمان وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ثمرات ہوتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان حقیقی ایمان تھا۔ سب مسلمان الحمد للہ کہتے ہیں اور الحمد للہ کے معنی یہ ہیں کہ سب سچی تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں، جو ہر قسم کے نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے ہیں جس کے لیے سب تعریفیں ہونگی وہی سب سے زیادہ حسین ہو ہوگا گا اور اور جو جوس سب سے زیادہ حسین ہوگا وہی زیادہ محبوب اور مطلوب ہوگا ۔ اس لیے جو الحمد للہ کہتا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی حسین نہیں، لیکن اگر وہ اور چیزوں کی بھی پرستش کرتا ہے تو وہ حقیقت میں الحمد اللہ کے ثمرات سے بے خبر ہے۔ یوں تو الحمد للہ اپنے رنگ میں ہر ایک مذہب کا آدمی کہے گا مگر عمل اس کے مخالف ہوگا، لیکن جن کو واقعی اس پر یقین ہوگا ۔ ان کا عمل ان کے ایمان پر گواہی دیگا۔ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو الحمد للہ تو کہتے ہیں مگر ان کے اعمال اس پر گواہی نہیں دیتے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کو دھو آپ نے بھی الحمد للہ کہا۔ کہ خدا کے لیے سب خوبیاں ہیں۔ پھر آپ نے اس قول کو زندگی کے ہر ایک شعبے میں نہا ہار فرانس کا ایک مشہور مصنف لکھتا ہے کہ ہم کچھ بھی (نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہیں۔ ہم کہیں کہ وہ پاگل تھا۔ مجنوں تھا۔ اس نے دنیا میں ظلم کئے اس نے سوسائٹی میں تفرقہ ڈالا یگا ڈالا مگر ہم اس سے ان انکار نہیں کر سکتے کہ اس کو خُدا کے نام کا کا سخت جنون تھا۔ ہم اور کچھ بھی کہدیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کو خدا سے تعلق نہیں تھا۔ وہ جو کچھ بھی کرنا۔ اور وہ جس حالت میں بھی نظر آتا خدا کا نام ضرور اس کی زبان پر ہوتا اگر وہ کھانا کھاتا تو خدا کا نام لیتا۔ اگر کپڑا پہنتا تو خُدا کا نام لیتا ۔ اگر پاخانہ جاتا ا