خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 126

۱۲۶ نے طوفان مچا رکھا ہے اس کی خبر حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ سے پا کر بہت عرصہ قبل دی تھی۔ چنانچہ آپ کو الہام ہوا تھا الامراض تشاع والنفوس تضاع ہے کہ امراض پھیلاتے جائیں گئے اور جانیں ضائع کی جائیں گی۔ یہ الہام آپ نے آج سے پچیس سال قبل شائع فرمایا تھا پیس آج وہ پورا ہو رہا ہے ۔ جبکہ نئی نئی قسم کی وبائیں دنیا میں پھیل رہی اور انسانوں کو ہلاک کر رہی ہیں ۔ مجھے وہ درجہ تو حاصل نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود کو حاصل تھا۔ آپ خدا کے نبی اور رسول تھے لیکن آپ کی نیابت سے جو درجہ حاصل ہے اس کی وجہ سے خدا تعالے نے اب سے قریباً چار سال پہلے اس بیماری کے متعلق بذریعہ رویا۔ اطلاع دی تھی ۔ وہ رویا۔ میں نے اسی مسجد میں درس کے وقت لوگوں کو سنا دی تھی ۔ اور شائع ﷺ بھی ہو چکی ہے۔ یہ رویا۔ ۱۳ دسمبر اللہ کیے اخبار الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔ جو بہ لفظہ درج ذیل ہے :- " جیسی اس مسجد (مسجد اقصی میں بیچوں بیچ ایک نالی جاتی ہے۔ اسی طرح کی ایک نہر ہے اور وہ بہت دور تک چلی جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بڑا پانی ہے مگر بندوں کی وجہ سے اس کے اندر ہی بند ہے ۔ اس کے اردگرد ایک نہایت خوبصورت باغ ہے۔ میں اس میں ٹھل رہا ہوں ۔ اور ایک اور آدمی بھی میرے ساتھ ہے۔ ٹہلتے ٹہلتے نہر کی پرلی طرف میں نے چودھری فتح محمد صاحب کو دیکھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ص آیا اور میرے ساتھ میرے گھر کی مستورات بھی ہیں اس نے مجھے کہا کہ گھر کی مستورات کو پردہ کی تکلیف ہوتی ہے انھیں کہدیں صرف باغ میں نہیں ہیں جب اس جگہ سے ہٹ کر دوسری طرف گیا ہوں تو مجھے بڑے زور سے پانی کے بنے کی سر سر آوانہ آئی ۔ اس وقت میں جس طرح پرانے مقبر سے بنے ہوتے ہیں۔ ویسے مکان میں کھڑا ہوں وہ مقبرہ اس طرح ہے جس طرح بادشاہوں کی قبروں پر بنے ہوتے ہیں۔ میں اس کی چھت پر چڑھ گیا ہوں ۔ اور اس کی کئی چھتیں اونچی نیچی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بنی ہوتی ہیں۔ مجھے پانی کی سرسر کی جو آوانہ آتی تو میں نے اسی نہر کی طرف دیکھا۔ یا تو وہ ایسا خوبصورت نظارہ تھا کہ پرستان نظر آتا تھا یا ہر جگہ پانی پھرتا جاتا تھا۔ عمار میں گرتی جاتی تھیں درخت دیے جاتے تھے گاؤں اور شہر تباہ ہوئے جاتے تھے پانی میں لوگ ڈوب رہے تھے کسی کے گلے گلے کسی له تذكره (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )