خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 124

موجب کیا ہوا ہے۔ یہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ بلا سبب اور بلا وجہ تو انہیں رہیں ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ ٹھٹھا نہیں کرتا ۔ اور نہ یہ اندھا راج ہے کہ ٹکے سیر بھاجی مکے سیر کھا جا “ کا حساب ہو کہتے ہیں کوئی بیوقوف را جا تھا اس۔ اس نے اپنے حدود ریاست میں حکم جاری کر رکھا تھا کہ ہر ایک چیز کے سیر کے ۔ ایک چیلے ہمیں حکم نے اپنے گرد سے کہا کہ باواجی اس ریاست میں چلو وہاں بڑا مزا ہے۔ ہر ایک چیز کے سیر کیتی ہے ہم خوب سیر ہو کر مٹھائی وغیرہ کھایا کریں گے ۔ گرو نے کہا وہاں نہیں جانا چاہتے کیونکہ اگر گئے تو ہم پر ضرور کوئی نہ کوئی مصیبت آئیگی، لیکن چیلا اصرار کر کے لے گیا اور کچھ دن تک خوب مٹھائیاں کھائیں اور خوب موٹے تازے ہو گئے۔ آخر اتفاق ایسا ہوا کہ ایک شخص نے کسی کو قتل کر دیا۔ قاتل کو گرفتار کر کے پھانسی کا حکم دیا گیا۔ جب اسے پھانسی دی جانے لگی تو جلا دنے کہا۔ چونکہ اس کی گردن پتلی ہے۔ اس لیے پھانسی کی رسی اس کے گلے میں پوری نہیں آتی۔ را جانے کہا اس کی بجائے کسی موٹی گردن والے کو تلاشش کر کے پھانسی دیدو آخر کسی کو تو پھانسی دینا ہی چاہیئے ۔ اس پر گر و صاحب جن کی گردن موٹی تھی۔ بچھڑ کر پھانسی دیدیئے گئے۔ یہ ایک ظلم وجور کی کہاوت مشہور ہے ۔ اور ممکن ہے کسی نادان اور جہالت کے پہلے نے ایسا کیا بھی ہو، لیکن خدا کی نسبت اس قسم کا خیال بھی دل میں نہیں لایا جا سکتا وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی رحیم وکریم ہے اورکسی پر ایک ذرہ بھر ظلم روا نہیں رکھتا۔ وہ ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی بات کا پورا پورا علم رکھتا ۔ اور سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اس کی طرف سے کسی پر ظلم نہیں ہو سکتا۔ جب یہ بات ہے تو پھر آجکل جو دنیا میں قتل و غارت تباہی و بربادی ہلاکت اور خونریزی ہو رہی ہے نئی نئی بیماریاں بنانے اور و و باتیں پھیل رہی ہیں تحط اور زلزلے آ رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ تا اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ تو میں بتا آیا ہوں اور بتا کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہر ایک وہ انسان جسے ذرا بھی عقل سے حصہ ملا ہے جانتا ہے کہ خدا نہیں بدلا اور نہ وہ بدلتا ہے۔ وہ جیسے۔ جیسے پہلے تھا۔ ویسے ہی اب بھی ہے۔ اس لیے یہی ماننا پڑیگا کہ مخلوق کی حالت ہی نہایت خراب ہو گئی ہے ۔ اسی لیے یہ عذاب آرہے ہیں۔ پس یہ جو نرالی ہلاکت ہے اور غیر معمولی عذاب جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ بلا وجہ نہیں۔ اور نہ ہی اچانک بلا اطلاع آ گیا ہے خدا تعالیٰ کی قدیم سے سنت ہے کہ عذاب بھیجنے سے پہلے لوگوں کو متنبہ کر دیا کرتا ہے ۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس نے ایک رسول اپنے اس قانون کے ماتحت بھیجا کہ ماحنا معذبين حتى نبعث رسولا یہ ہم کبھی عذاب نہیں دیتے جب تک کہ پہلے رسول نہ بھیج ہیں ۔ اب وہ لوگ له سورة بنی اسرائیل : ۱۶