خطبات محمود (جلد 6) — Page 119
١١٩ لیے کوئی انتظام نہ کریگا ۔ اس بات کو مد نظر رکھ کر دیکھنا چاہتے کہ کیا وہ خدا جس نے تمام مخلوق کے لیے سامان پیدا کئے ہوتے ہیں جس نے مچھروں کے لیے سانپوں کے لیے بچھوؤں کے لیے اگتوں کے لیے شیروں کے لیے رزق پیدا کیا ہوا ہے۔ ان کے آرام کے سامان مہیا کئے ہوتے ہیں کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان سب سے اشرف اور اعلیٰ مخلوق (انسان) کے لیے رزق مہیا نہیں کریگا۔ یا اس کے آرام کے سامان پیدا نہیں کریگا ۔ اس نے سب کچھ کیا ہوا ہے لیکن جس طرح ایک نادان اور کم عقل انسان اپنے نہایت مربان اور خاطر تواضع کرنے والے میزبان سے لڑ کر چلا جاتا ہے ۔ اور اس کی میزبانی کور در کر کے اس آرام اور آسائش سے محروم ہو جاتا ہے جو وہ اسے پہنچانا چاہتا ہے۔ اسی طرح ناسمجھ اور نا شکر انسان خدا تعالیٰ سے جنگ کر کے اس سے منہ موڑ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے آرام کے اسباب سے فائدہ اٹھانے سے بے نصیب رہ جاتا ہے پس اگر نادان انسان با وجود اس خاطر کے اپنے میزبان سے لڑکر چلا جائے۔ تو یہ اس کی بیوقوفی ہوگی۔ دیکھو حیوان اپنے مالک سے کبھی نہیں لڑتا ۔ جو کچھ وہ اسے کھانے کو دیتا ہے کھا لیتا ہے اور اگر بھو کا بھی رہے۔ تو بھی اس کے دروازے کو نہیں چھوڑتا۔ مگر انسان خدا سے لڑتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے خدا کی کیا پرواہ ہے۔ مگر یہ بات اکثر انسان زبان سے نہیں کہتے۔ بلکہ عمل سے کہتے ہیں ۔ پس جب انسان خدا سے لڑتے ہیں۔ اُس کے حکموں کو توڑتے ہیں اور اس کی نعمتوں کی بے قدری کرتے ہیں تو ان پر طرح طرح کے عذاب آتے ہیں۔ بیماریاں پڑتی ہیں۔ زلزلے اور سیلاب آتے ہیں۔ بڑا تیاں ہوئی ہیں ۔ قحط پڑتے ہیں ۔ اور نا شکر گزار لوگ تباہ و برباد کر دیتے جاتے ہیں ۔ ان کے عزیز و خویش ہلاک کئے جاتے ہیں ۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ جب : خدا کسی نعمت اور کسی انعام اور کسی بخشش کرنے میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا۔ تو پھر جو ایسے مہربان اور رحم کرنے والے خدا سے منہ موڑتے ۔ اور نہ صرف منہ ہی موڑتے ہیں۔ بلکہ لڑائی مول لیتے ہیں۔ انھیں اس نا شکر گذاری کا مزا چکھائے۔ چونکہ خدا تعالی بڑا رحم کرتا ہے اور انسان کو کسی نعمت کے دینے میں بخل نہیں کرتا ۔ مگر یہ اس سے لڑائی مول لیتا ہے اور اس سے علیحدگی اختیار کرتا ہے ۔ پھر وہ اس کی سزا بھگتا ہے ۔ اس زمانہ میں بھی یہ نظارہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ چونکہ بہت سے لوگوں نے خدا سے لڑائی شروع کر دی تھی اور خدا سے علیحدہ ہو گئے تھے ۔ اس لیے خدا نے ایک نبی کو مبعوث کرنا ضروری سمجھا جو انھیں بتائے کہ تمہاری تمام تکلیفوں اور مصیبتوں کا علاج خدا اور صرف خدا ہی کے پاس ہے