خطبات محمود (جلد 6) — Page 117
114 ماں اسے بود ہے سے گود میں اٹھالیتی ہے تو بھی نادان بچہ روتا ہے مگر اس وقت اس کا رونا خوف اور خطرہ کا رونا ہیں ہوتا۔ بلکہ خوشی کا رونا ہوتا ہے لیکن انسان دانا ہو کر تجربہ کار ہو کر اور ایک عمر گزار چکنے کے بعد جب مصائب اور مشکلات میں گرفتار ہوتا ۔ تباہی اور بربادی کے نظارے دیکھتا، ہلاکت اور موت کے منظر مشاہدہ کرتا ہے۔ تو چیختا چلاتا ہے ۔ مگر خدا کی طرف نہیں جھکتا ۔ اس کی پناہ نہیں ڈھونڈھتا اور اس کی آغوش میں آنے کی سعی نہیں کرتا۔ نادان بچہ ڈرتا ہے اور روتا ہے ۔ اور انسان بھی مصائب میں گرفتار ہو کر روتا ہے، لیکن بچہ جب ماں کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو وہ رنج و خطر کا رونا چھوڑ کر خوشی کا رونا روتا ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک دنیا بھر کی تکالیف کا علاج اگر کوئی ہے تو ماں کی آغوش ہی ہے اور جیسے وہ سمجھتا ہے کہ میں اس آغوش میں پہنچ گیا تو پھر ساری دنیا کی بلائی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ مگر انسان روتا حالانکہ خدا اسکے پاس ہوتا ہے ایسی حالت میں بھی وہ روتا ہے اور اسکایہ رونا بچہ کی طرح خوشی کا روا نہیں ہوتا بلکہ خطرات کا رونا ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ خدا کی آغوش اس کے لیے کھلی ہوتی ہے۔ تاہم خدا کی آغوش میں وہ خطرات اور مصائب سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں خیال کرتا حالانکہ ماں کی خد کے مقابل میں کیا حیثیت ہے کہ جس کی گود کو ایک نادان بچہ ہرقسم کے خطرات ے بچنے کی جگہ سمجھا ہے اور اسمیں پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ جنگ بدر کا واقعہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے دیکھا کہ ایک عورت گھبرائی ہوتی پھر رہی تھی آپ نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا تم جانتے ہو یہ عورت کیوں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے۔ اس کا لڑکا ہے۔ جو اس سے جدا ہو گیا ہے۔ یہ اس کو تلاش کرنے جا رہی ہے ۔ اس کو خیال ہے کہ آج جنگ کا دن ہے۔ تلواریں چل رہی ہیں کہیں میرا بچہ ہلاک نہ ہو جائے یا غلام بنا کربیچا نہ جائے، اور پھر خدا جانے کس کس ملک میں مارا مارا پھر سے ۔ ہر ایک بچہ کو جو اسے دکھائی دیتا ہے۔ سینہ سے لگاتی ہے کہ شاید یہی میرا نچہ ہو۔ فرمایا۔ تم نے دیکھا کہ اس ماں کو اپنے بچہ کے کھوتے جانے کا کس قدر عرب ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کے گم ہونے سے اس سے کہیں زیادہ کرب ہوتا ہے لیے سچی بات یہی ہے کہ ماں کیا اور باپ کیا ۔ اللہ کی محبت اور اللہ کی آغوش واقعی ایسی آرام کی جگہ ہے جس کی کسی کے ساتھ شمال ہی نہیں دی جاسکتی۔ بچہ ماں کی آغوش کو تمام جہان کے دکھوں سے آرام پانے اور ہرقسم کے خطرات سے محفوظ رہنے کی جگہ خیال کرتا ہے ایک وہ غلطی کرتا ہے کیونکہیں کی حقیقت ہی کیا ہے۔ ایک چپڑاسی بھی اسے دھمکا سکتا ہے۔ یا بیوہ عورت دیکھ کر ظالم محلہ کے له بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبيله و معالقته ن مال