خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 112

۱۱۲ اتنا رزق نہیں ہوتا کہ یہ انکی پرورش کر سکے ۔ اس لیے یہ بعض نا واجب طریق اختیار کرتا ہے۔ چوری کرتا ہے رشوت لیتا ہے۔ اسی طرح کسی کو اپنا رب سمجھتا ہے ۔ اس کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔ یان اور اسی قسم کی باتیں کرتا ہے۔ تو خدا کی ربوبیت کو بھول جاتا ہے اور بندوں کو اپنا رب بنا لیتا ہے۔ دوسرا ذریعہ ملکیت ہے یعنی بعض بادشاہ ہوتے ہیں۔ تو ان کے بادشاہ ہونے کی حیثیت میں ان پر رعیت کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ وہ ان میں خیانت کرتے ہیں۔ یا خود رعیت ہوتے ہیں اور دو سر ملک ہوتا ہے۔ تو رعیت ہونے کی حالت میں بغاوت یا دیگر قسم کے سیاسی جرم کرتے ہیں ۔ تیسری شق الوہیت ہے کہ کبھی تو انسان خوداللہ بن جاتا ہے۔ اور کبھی دوسروں کو الہ بنا لیتا ہے ۔ حضرت خلیفہ اول جب اپنے ایک استاد سے رخصت ہونے لگے ۔ تو اُنھوں نے آپ کو کہا کہ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم کبھی خدا بننے کی خواہش نہ کرنا۔ حضرت مولوی صاحب نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا خدا بھی کوئی بنتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ زبان سے خدا ہونے کا تو بہت کم لوگ دعوئی کیا کرتے ہیں۔ مگر عملاً بہت لوگ خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ اس طرح کہ وہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہم ۔ کہیں وہی ہو کر رہے ۔ حالانکہ یہ بات تو خدا کے شایان شان ہے ۔ جو لوگ قولاً دعویٰ کرتے ہیں ان کا علاج تو عام لوگ بھی کر لیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے خدائی کا دعوی کیا ۔ علماء نے اسے بہتر سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا۔ ایک ان پڑھ تھا ۔ وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ مجھے مواقع ملے تو میں اس کو سمجھاؤں ، مگر خدائی کے مدعی کے چیلے ہر وقت اس کے ارد گرد جسے رہتے تھے۔ اتفاقاً ایک دن جبکہ وہ اکیلا تھا تو اسے موقع ملا وہ اس کے پاس گیا اور جا کر دریافت کیا کہ کیوں جی آپ خدا ہیں اس نے کہا ہاں ۔ اس ان پڑھ نے اسے گردن سے پکڑ لیا اور کہا کہ اچھا ہوا آج تو مجھے مل گیا ہے ۔ میں تو مدتوں سے تیری تلاش میں تھا۔ آج تیری خبر لونگا ۔ یہ کہ کر اسے مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ تو نے ہی میرے فلاں رشتہ دار کو مارا ہے ۔ اب تو میرے قابو آیا ہے ۔ میں تجھ کو ہرگز نہیں چھوڑ دیگا جب بہت مار پڑی تو اس نے کہا مجھے چھوڑ دے ۔ میں خدا نہیں ہوں۔ پس ٹھوکر لگنے کے تین ذریعے ہیں ۔ ربوبیت - ملکیت ، الوہیت اس لیے اللہ تعالیٰ اس کا علاج بتاتا ہے ۔ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، مَلِكِ النَّاسِ إِلهِ النَّاسِ ، کہ اس بات کا یقین رکھو کہ رب الناس کے سوا کوئی رب نہیں۔ ملک الناس اصل بادشاہ تو وہ ہے جو خدا ہے ۔ الہ الناس اور معبود بھی وہی ہے ۔ اس لیے کہو کہ میں اس خدا کی پناہ میں آتا ہوں جو رب ہے ۔ ملک ہے اور الہ ہے اس دعا میں ایک لطیف نکتہ ہے۔ اسلام کی تمام دعاؤں میں ایسے الفاظ اور ایسا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے