خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 105

۱۰۵ ان کے نام کے ساتھ خان بہادر نہ لکھا جائے یا نہ بولا جائے تو وہ کہیں گے کہ تمہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ کسی کا پورا نام لوں تو اب یہ خان بہادر ان کے نام کا جنہ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ خان بہادری کی جو حقیقت ہے وہ ان میں متحقق نہیں ہوتی ۔ بعض لوگ اپنے بچوں کا نام ہی خان بہادر رکھ لیتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری ایک رشتہ دار عورت نے اپنے بچہ کا نام خان بہادلہ رکھا۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ نام تو نے کس لیے رکھا ہے ۔ اس نے کہا کہ ہمارے فلاں رشتہ دار کو سرکار سے خان بہادر کا خطاب ملا ہے۔ میں نے خیال کیا کہ ممکن ہے بڑے ہو کر اس کو یہ خطاب ملے ۔ یا نہ ملے۔ اس لیے میں نے اس کا نام ہی خان بہادر رکھ دیا۔ کیونکہ اگر لوگ اس خطاب یافتد کو خان بہادر کہیں گے تو یہ بھی خان بہادر ہی کہلائے گا پیس جو لوگ گورنمنٹ سے خطاب کا بہادری کا حاصل کرتے ہیں ۔ الا ۔ ان میں سے بہت میں خان بہادری کی کوئی بات نہیں ہوتی ۔ اسی طرح بعض لوگوں کا نام ہوتا ہے شیر ان حالانکہ وہ بکری سے بھی کمزور دل ہوتے ہیں، یا کسی کا نام ہوتا ہے محمد تقی مگر اس جیسا شقی ملنا مشکل ہوتا ہے لیپس بہت سے نام اور تعریفیں ہوتی ہیں جو حقیقت سے علیحدہ ہوتی ہیں ۔ ہیں بہت سے لوگ تعریف حاصل کرنے کے لیے بہت کوشش کرتے ہیں مگر بہت دفعہ الیسا ہوتا ہے کہ تعریف تو ان کو حاصل ہو جاتی ہے، لیکن وہ جھوٹی تعریف ہوتی ہے جس سے وہ دل میں شرمندہ ہوتے ہیں ۔ مثلاً جو شخص در حقیقت بزدل ہو اس کو اگر بہادر کہا جائیگا۔ تو اس کے جسم پر ضروری آ ہی جاتی ہوگی۔ عربی زبان میں جو ام الا لسنہ ہے اور خدا تعالیٰ نے ابتدائے آفرنیش میں انسانوں کو بذریعہ اپنے لام کے تعلیم کی تھی تاکہ وہ اپنا مدعا ایک دوسرے سے کہ سیکیں اس میں سچی تعریف اور جھوٹی تعریف میں فرق کیا گیا ہے۔ یعنی تعریف کے لیے دو لفظ ہیں ۔ ایک مدرح دوسرا - حمد مارح تو وہ ہے کہ اس میں تھی اور جھوٹی دونوں قسم کی تعریفیں آسکتی ہیں۔ اگر کوئی کمزور ہو، بزدل ہو جاہل ہو تو ان کی مدح میں شدہ زور بہادر - عالم کہ سکتے ہیں۔ مگر سچی تعریف کے لیے مدح کا لفظ بھی نہیں لائیں گے ۔ وہاں حمد ہوگا جو کمزور کو شہ نور بردل کو بہادر اور جاہل کو عالم کہتا ہے ۔ وہ اس کی مدح کرتا ہے۔ نہ کہ حمد تو یہ لوگ ممدوح ہونگے محمود نہیں ہونگے۔ عربی زبان میں شعر و تعریف کریگا اس کو درج کہیں گے حمد نہیں کہیں گے۔ کیونکہ اکثر شاعر تعریف میں مبالغہ بھی کیا کرتے ہیں، لیکن جہاں واقعات نفس الامر ہی میں بال بھی نفس سے کسی کی تعریف کی جائیگی ۔ تو وہ اس کی حمد ہوگی۔ پس یہ فرق ہے جو عربی زبان میں بیچی اور جھوٹی تعریف