خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 10

۱۰ میں لیکر ہوتے ہوتے ہیں۔ انگور نہیں کیونکہ انگور کی بیل میں کانٹے نہیں ہوتے۔ کیا یہ ایمان کے نتائج ہو سکتے ہیں؟ کیا ایمان کے دلائل میں سے یہ بھی کوئی دلیل ہے کہ جب تک پندرہ بیس روپے ملتے ر ہیں یا کوئی عہدہ حاصل ہو۔ یا کوئی خاص کام سپر دہ ہے ۔ اس وقت تک تو ایمان ہے اور جب یہ نہیں تو ایمان بھی نہیں۔ اگر یہ کوئی دلیل ہے تب تو ہم ایسے لوگوں کو حق پر سمجھ لینگے۔ اور اگر ہ نہیں تو پھر یہ ثابت ہو گیا کہ ان میں ایمان ہی نہیں۔ دیکھو صحابہ نے وطن چھوڑے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ترک کیا۔ بہنوں ۔ بھائیوں ۔ بیوی بچوں سے الگ ہوتے اور دین کی راہ میں اپنا مال اور جائیں قربان کر دیں ۔ ان کے مقابلہ میں اس وقت کے منافق بدتر تھے ۔ کیونکہ انھوں نے ایسا نہ کیا۔ مگر اس زمانہ کے کئی مومن کہلانے والوں سے اچھے تھے کیونکہ ان کا ایمان اس سے وابستہ نہیں ہوتا تھا کہ ہمیں کچھ ملتا ہے یا نہیں۔ بلکہ انھیں یہ خیال ہوتا تھا کہ ہمارا نہ کچھ جاتا رہے مگر آج یہ خیال نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کچھ ملتا ہے یا نہیں ، اگر ملے تو ایمان قائم - اور اگر نہ ملے تو کچھ بھی نہیں۔ اگر یہی معیار منافقت کا قرار دیا جائے تو رسول کریم کے وقت تو کوئی منافق رہتا ہی نہیں۔ عبداللہ ابن ابی ابن سلول کو اس ۔ سلول کو اس لیے اختلاف نہ تھا کہ مجھے کچھ کیوں نہیں دیا جاتا۔ وہ ایک امیر آدمی امیرا تھا۔ بلکہ اس لیے تھا کہ جو کچھ میرا ہے وہمجھ سے نہ لیا جائے۔ پھر اس وقت کے منافی کچھ کچھ تو نہ کچھ تو دیتے تھے۔ البتہ انتہائی نفرت نہ کرنے کی وجہ سے منافق رہے مگر آج ان سے بھی کم خرچ کرنے والے کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت بڑھ گئے ہیں، اور ہمیں پورا پورا ایمان حاصل ہے حاصل ہو گیا ہے۔ یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ حالانکہ کوئی ایمان نہیں لائے۔ ہاں مسلمانوں میں داخل ہو گئے ہیں ۔ اور کتنی باتیں ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ہمارا ایمان جاتا رہا۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوئی انسان مومن تب بنتا ہے جبکہ اسے بشاشت ایمان حاصل ہو۔ اور یہ مومن بننے کی چھوٹی سے چھوٹی تعریف ہے جس طرح مدر سے میں نام لکھانے سے پہلی جماعت کا لڑکا بھی طالب علم کہلا سکتا ہے ۔ اسی طرح مومن کہلانے کے لیے یہ بات ہے کیونکہ رسول کریم فرماتے ہیں کہ مومن نام رکھانے کا مستحق انسان اُس وقت بنتا ہے۔ جبکہ اس میں بشاشت ایمان پائی جائے۔ صحابہ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہیں کہ اگر آگ میں ڈالا جائے تو ایمان نہ چھوڑے ہے یہ ایک ادنی درجہ ہے مومن کا۔ اور اس کے آگے اور ترقی حاصل ہو حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام بشاشت نه بخاری کتاب المرضى باب عيادة المريض سے بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الایمان