خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 86

خطبات محمود جلد (5) ۸۶ قدر اشیاء ہیں ۔ ان میں ترقی کا مادہ ہے ہی نہیں وہ ایک حد کے اندر محدود رہتی ہیں اور پھر وہ ارادے اور قدرت سے کوئی کام نہیں کرتیں۔ بلکہ مشین کے طور پر چلتی ہیں ۔ شیر کو دیکھ لوجس رنگ میں خدا تعالیٰ نے پیدا کیا تھا اسی رنگ میں اب بھی ہے۔ اسی طرح گدھے کو جس رنگ میں پیدا کیا تھا کہ گھاس کھائے وہ اب بھی گھاس ہی کھاتا ہے اور ویسا ہی ہے جیسے حضرت آدم کے وقت تھا اسی طرح گھوڑا ہے۔ اس تمام نظارہ کو دیکھ کر ہمیں ایک بات معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ انسان کے سوا اور کوئی چیز طاقت اور ارادہ نہیں رکھتی بلکہ ان میں انفعالی طاقت ہوتی ہے یعنی ایک دوسری چیز اپنا اثر ڈال کر ان میں تغیر پیدا کر دیتی ہے اور وہ انسان ہے۔ اس سے پتہ لگا کہ تمام اشیاء جو زمین و آسمان میں یا ان کے درمیان ہیں وہ تمام کی تمام اسی ہستی کی خدمت کے لئے بنائی گئی ہیں اور ان کی خلقت اس لئے ہوئی ہے کہ انسان ان سے نفع حاصل کرے خواہ سورج ہے یا چاند ہے یا ستارے ہیں یا جو کچھ بھی ہے وہ انسان کے نفع کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار فرمایا ہے۔ کہ ان اشیاء کو تمہارے نفع کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ ایک نادانی کی بحث ہے کہ زمین کے سوا کوئی اور بھی کھڑے ہیں یا نہیں جہاں انسان رہتے ہیں کیونکہ اس بات کی اسے کیا ضرورت ہے وہ اس کرہ سے تعلق رکھتا ہے جس میں وہ رہتا ہے اس لئے وہی اس کے لئے بنایا گیا ہے۔ اور کڑوں کا دریافت کرنا تو الگ رہا۔ انسان کے اندر ایسی طاقتیں موجود ہیں جو تمام کی تمام یکدم اس پر خود بھی نہیں کھلتیں بلکہ آہستہ آہستہ کھلتی رہتی ہیں اور اس کی ایسی مثال ہے کہ بہت سی اشیاء انسان کی جیب میں ہوں ۔ اور اسے ان کا علم نہ ہو۔ ہاتھ ڈالتا جائے اور نکالتا رہے۔ انسان کی ہستی ایک ایسی زنبیل ہے کہ جو کبھی خالی نہیں ہوتی ۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ اس سے نکلتا ہی چلا آتا ہے ۔ پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ دنیا کی سب اشیاء انسان کے لئے اور صرف اسی ہستی کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اس کی مسخر کر دی گئی ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنا بڑا کارخانہ اور اس کی تمام اشیاء زمینی اور آسمانی کا