خطبات محمود (جلد 5) — Page 63
خطبات محمود جلد (5) ۶۳ تو اسے ماں باپ سے زیادہ خوشی ہوتی ہے اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا انسان سے جب ایسا تعلق ہے تو اس کا رحم اور شفقت بھی اسی نسبت سے ہوگی پس جب ایک ماں بچہ کی پکار پر بیتاب ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کے حضور جب لاکھوں انسان دن رات پکارنے پر لگے رہیں گے تو کیونکر ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا کو رد کر دے۔ ایک دن نہیں تو دوسرے دن دوسرے دن نہیں تو تیسرے دن نہیں تو چوتھے دن کبھی تو قبول کرے گا۔ پھر ایک کی نہیں تو دوسرے کی دوسرے کی نہیں تو تیسرے کی۔ تیسرے کی نہیں تو چوتھے کی۔ کسی نہ کسی کی تو سُنے گا اور قبول کرے گا۔ پس خیال کرو کہ جہاں لاکھوں انسان دعا ئیں کرنے والے ہوں اور متواتر دن رات کرتے ہوں ۔ وہاں ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا قبول کرے ۔ پس ہماری جماعت کے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ بہت توجہ سے دعاؤں میں لگ جائیں اور جس طرح انسان کو اپنا نام یا د رہتا ہے یا اپنے ماں باپ یا د رہتے ہیں اسی طرح وہ اس بات کے لئے بھی دعائیں کرنے کو یاد رکھیں اور کسی وقت غافل نہ ہوں ورنہ اتنے بڑے مقابلہ میں ہم کہاں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ ایک انسان کا سمجھانا ہی نہایت مشکل کام ہے چہ جائیکہ تمام دنیا کو سمجھایا جا سکے ۔ ایک دفعہ یہاں ایک شخص آیا۔ عرب تھا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گے سے گفتگو کرتا رہا۔ آپ نے بہت سمجھایا ۔ مگر کچھ نہ سمجھا۔ آخر آپ نے فرمایا یہ ضدی ہے اسے ہدایت نہیں ہوگی ۔ جب آپ نے اس کو چھوڑ دیا تو الہام ہوا کہ اس کے لئے دعا کرو۔ ہدایت پا جائے گا۔ لے آپ نے دعا کی اور دوسرے دن وہی باتیں سنکر جو پہلے سن چکا تھا اور جن سے اسے کچھ اثر نہ ہوا تھا اس کا شرح صدر ہو گیا اور اس نے بیعت کر لی ۔ پھر وہ یہاں سے چلا گیا اور خوب تبلیغ کرتا رہا۔ اس کے خط بھی آتے تھے تو دیکھو اس نے ہدایت پائی ۔ مگر اس طرح کہ جب خدا کی مدد آئی ۔ پس جو کام دعا کرتی ہے وہ اور کوئی کوشش نہیں کر سکتی ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ جس قدر انسان کے قریب ہے اتنا وہ خود بھی اپنے قریب نہیں ہے۔ چونکہ انسان کی ہدایت کے لئے وہی ہستی ہو سکتی ہے جو اس کے بہت ہی قریب ہواس لئے خدا ہی اسے ہدایت دے سکتا ہے دیکھو ایک شخص ایک سیکنڈ میں کنوئیں میں گرنے والا ہو ۔ اگر کوئی ذرا ے اخبار الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء