خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 575

خطبات محمود جلد (5) ۵۷۴ ایسا کرنے میں انہیں کوئی خوف نہیں ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جن سے ہمارا مقابلہ ہے وہ شریف ہیں ۔ اس لئے گالیوں کا جواب گالی سے نہیں دیں گے۔ وہ اپنی گالیوں اور استہزاء پر ہی خوش ہو رہے ہیں۔ کیونکہ عوام دلائل کو نہیں سنتے۔ اور استہزاء سے پیار کرتے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ وہ دن آنیوالے ہیں ۔ جب لوگ گالیوں سے تنگ آکر دلائل کی طرف توجہ کریں گے۔ صوفیوں کو جوش آتا ہے تو احمدیوں کے خلاف ۔ مولویوں کو جوش آتا ہے تو احمدیوں کے خلاف۔ امراء کو جوش آتا ہے تو احمدیوں کے خلاف۔ حاکموں کو جوش آتا ہے تو احمدیوں کے خلاف ، سوائے ان حکام کے جو گورنمنٹ کے ماتحت ہیں۔ مسلمانوں کی ریاستوں میں ہندو امن سے ہیں۔ انکے مندر اور شوالے۔ اور سکھوں کے گوردوارے بنتے ہیں۔ مگر احمدیوں کیلئے اجازت نہیں کہ مسجد بناسکیں۔ ان کی تبلیغ کے لئے چند پابندیاں ہیں۔ مگر احمد یوں کو ممانعت ہے۔ ہمارے مخالفین ایک دفعہ زور لگا کر بیٹھ گئے تھے ۔ اب پھر اُٹھے ہیں۔ لیکن انکی حالت ایسی ہی ہے جیسے بجھنے والے چراغ کی۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ چراغ میں جب تیل ختم ہو جاتا ہے تو وہ آخر میں پوری روشنی دیتا ہے۔ مگر تھوڑی دیر بعد بجھ جاتا ہے۔ پس ہمارے مخالفین کا اب جوش دکھانا ان کے آخری سانس کا پتہ دے رہا ہے۔ اور ان کے لئے آخری لمحہ ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ ۔ ہمارے خلاف ان لوگوں کی کوششیں۔ گالیاں - ہنسی۔ استہزاء پر آرہی ہیں لیکن یہ باتیں صداقت کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں ۔ صداقت پھیلے گی اور ضرور پھیلے گی۔ مگر اس وقت ہمارا فرض ہے کہ اس کیلئے سامان مہیا کریں۔ اتفاق و اتحاد اور یکجہتی سے کام میں مشغول ہوں اور ہر قسم کی قربانیاں کرنے کو تیار رہیں۔ بلکہ کریں۔ کیونکہ اس مقابلہ کیلئے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ پھر کامیابی انشاء اللہ ہماری ہی ہوگی ۔ ہمارے لئے انعام مقرر ہے۔ صرف محنت کرنے کی دیر ہے۔ اور یہ آخری وقت ہے۔ اس وقت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ مزدوروں کو دیکھا ہوگا کہ وہ شام کے وقت محنت زیادہ کرتے ہیں ۔ کیونکہ مزدوری ملنے کا وہی وقت ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں اگر اس وقت مالک خوش ہو گیا تو انعام پائیں گے۔ پس