خطبات محمود (جلد 5) — Page 516
خطبات محمود جلد (5) ۵۱۵ اکثر چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر ان کے نتائج خطرناک ہوا کرتے ہیں۔ حکومت بغداد کی تباہی کی ابتداء ایک معمولی بات سے ہوئی تھی ، شہر میں ایک گروہ تھا جن کو عیار کہتے تھے۔ وہ گویا پولیس کے قائم مقام ہوتے تھے۔ ان کا کام بدمعاشوں کی فہرستیں تیار کرنا ہوتا تھا۔ ایک دن دو عیاروں میں سے ایک نے کہا کہ چلو بھئی کباب کھائیں۔ دوسرے نے کہا کباب کیا کھانے ہیں ذرا لڑائی کا تماشہ دیکھیں۔ شیعہ سنی کو لڑوائیں اور تماشہ دیکھیں۔ یہ کہہ کر ایک شیعوں کے محلہ میں چلا گیا اور دوسر استیوں کے محلہ میں اور وہاں جا کر کچھ ایسی باتیں بنائیں کہ دونوں گروہوں کو لڑ وادیا ۔ وزیر اعظم شیعہ تھا۔ اس نے سنیوں کی گرفتاری کے احکام نافذ کئے ۔ اس پرستی ولی عہد کے پاس گئے اور کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے ہم امن میں نہیں ہیں ۔ اس نے ہماری گرفتاری کیلئے فوج کو بھیج دیا ہے۔ ہمیں بچائیے اور شیعوں کے مظالم سے حفاظت کیجئے۔ ولیعہد سنی تھا۔ اس نے خاص اپنی باڈی گارڈ کو بھیج دیا کہ اگر سنیوں کو کوئی گرفتار کرے تو مزاحم ہو۔ اسطرح دونوں فوجوں میں کچھ جنگ بھی ہوئی اور وزیر اعظم کے دل میں کینہ اور بغض بیٹھ گیا۔ اس نے ہلا کو خان کو لکھا کہ آپ حملہ کریں میں آپکی مدد کیلئے تیار ہوں ۔ ہلاکو خان چڑھ آیا۔ ادھر بھی لشکر تیار ہوا۔ اگرچہ اس گئے گزرے وقت میں بھی مسلمان ہلاکو خان کے مقابلہ کی تاب رکھتے تھے مگر وزیر نے مسلمانوں کی فوج کو دریا کے دہانہ پر اتارا اور رات کو دریا کا بند تڑوا دیا جس سے لاکھوں مسلمان غرق ہو گئے۔ خلیفہ نے صلح کی درخواست کی ہلاکو کی طرف سے کہا گیا کہ ملک آپ کا ہے ہمیں کیسے یقین آئے کہ آپ صلح کرنا چاہتے ہیں اس کیلئے آپ کچھ منتخب لوگ ہمارے پاس بھیج دو۔ چنانچہ ادھر سے جسقدر کام کرنے والے لوگ تھے۔ امراء۔ علماء صوفیاء جرنیلوں میں سے منتخب کر کے بھیج دیئے گئے۔ ہلاکو نے ان کو گرفتار کر لیا ہے ۔ دیکھو ایک چھوٹی سی بات تھی جو صرف ایک تماشہ دیکھنے کیلئے کی گئی تھی۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بغدا دتباہ ہو گیا ۔ ۱۸ لاکھ آدمی قتل ہوا۔ اس میں شیعہ سنی کی تمیز نہ کی گئی۔ ایک ہزار کے قریب شاہی خاندان کی عورتوں سے زنا بالجبر کیا گیا تا کہ آئندہ کوئی مدعی خلافت نہ کھڑا ہو۔ زنا تا تو فتنہ کی بات ہمیشہ چھوٹی ہی ہوا کرتی ہے۔ مگر نتائج نہایت خطرناک پیدا کرتی ہے۔ دیکھو دیا سلائی کتنی چھوٹی ہوتی ہے مگر میل بامیل کے جنگل جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ ے :- تاریخ اسلام مرتبہ شاہ معین الدین حصہ چہارم حالات خلافت عباسیہ۔