خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 500

خطبات محمود جلد (5) ۴۹۹ یا شکرے اور باز جس وقت آتے ہیں تو جانور درختوں میں اس طرح دبک کر بیٹھتے ہیں گویا وہاں کوئی جانور ہے ہی نہیں مگر انسانوں میں ایک ایسی جماعت ہے جو بات کہتی ہے اور نہیں سمجھتی کہ اس کا کیا مطلب ہے حالانکہ اکثر اوقات ذراسی غلطی خطرناک نتائج پیدا کر دیا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے مومنو! دو معنی والے لفظ رسول کے مقابلہ میں استعمال نہ کرو۔ ورنہ تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مومن تھے اس لئے فرمایا کہ تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا۔ فرمایا کہ تم اگر چہ اس وقت مومن ہو لیکن اگر تم نے اپنی زبانوں پر قابو نہ رکھا تو یا د رکھو کہ ہم تمہیں کا فربنا کے دُکھ کے عذاب میں مبتلا کر کے ماریں گے مومن سے شروع کیا لیکن اس غلطی کے باعث کفر پر انجام ہوا۔ پس انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول کا نگران ہو۔ ورنہ ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ زبان سے تو اقرار کرتے ہیں اور تحریر وتقریر میں خلیفہ المسیح خلیفہ المسیح کہتے ہیں مگر جو حق اطاعت ہے اس سے بہت دور ہیں زبانی خلیفہ مسیح کہنا یا لکھنا کیا کچھ حقیقت رکھتا ہے؟ شیعوں نے لفظ خلیفہ کے استخفاف اور ہنسی کے لئے نائیوں اور درزیوں تک کو خلیفہ کہنا شروع کر دیا۔ لیکن کیا خلفاء ان لوگوں کی ہنسی سے ذلیل ہو گئے ہرگز نہیں۔ لوگوں نے اس لفظ خلیفہ کو معمولی سمجھا ہے مگر خدا کے نزدیک معمولی نہیں۔ خدا نے ان کو بزرگی دی ہے اور کہا ہے کہ میں خلیفہ بناتا ہوں اور پھر فرمایا مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (النور ) ۔ ان خلفاء کے انکار کا نام فسق ہے جو انکار کرے گا وہ میری اطاعت سے باہر ہو گیا۔ پس لفظ خلیفہ کچھ نہیں لوگ نائی کو بھی خلیفہ کہتے ہیں ۔ مگر وہ خلفاء جو خدا کے مامورین کے دیتی جانشین ۔ شین ہوتے ہیں ان کا انکار اور ان پر ہنسی کوئی معمولی بات نہیں وہ مومن کو بھی فاسق بناء ہے۔ پس یہ مت سمجھو کہ تمہارا اپنی زبانوں اور تحریروں کو قابو میں نہ رکھنا اچھے نتائج پیدا کرے گا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو اپنی جماعت سے علیحدہ کردوں گا ۔ فاسق کے معنے ہیں کہ خدا سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس کو خوب یا د رکھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو انتظام ہو۔ جو شخص اس کی قدر نہیں کرے گا اور اس انتظام پر خواہ مخواہ اعتراضات کریگا خواہ وہ مومن