خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 41

خطبات محمود جلد (5) ۴۱ ہزاروں نہیں ۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسان ایسے ہیں ۔ کہ عبادتیں کرتے ہیں محنتیں مصیبتیں برداشت کرتے ہیں دکھ اور تکلیفیں جھیلتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہم کیوں عبادتیں کرتے ہیں ان ۔ سے کیا مقصد اور مدعا ہے ان کا کیا نتیجہ نکلنا چاہئیے ۔ یہ لوگ تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ ہمیں عبادت کس طرح کرنی چاہئیے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگ شروع سے غلطی میں پڑتے ہیں۔ اور اس غلطی پر مر جاتے ہیں لیکن انہیں پتہ ہی نہیں لگتا۔ کہ ہم غلطی کر رہے ہیں ۔ کیوں اس لئے کہ انہیں اپنی عبادت اور ریاضت کے نتیجہ کا علم اور پتہ ہی نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتے کہ ہمیں کیا ملنا چاہئیے ۔ اور ہم کس چیز کے لئے کوشش کر رہے ہیں اس لئے اگر ان کو عبادت اور بندگی سے کوئی نتیجہ نہیں حاصل ہوتا تو وہ گھبراتے نہیں اور نہ ہی اپنے دل میں فکر اور اور سے نتیجہ ہوتا تو وہ نہا اور تر د محسوس کرتے ہیں۔ اگر انہیں خدا کا قرب حاصل نہیں ہوتا۔ اس کی مدد اور نصرت نہیں ملتی ۔ اس کی طرف سے تسلی تشفی نہیں ہوتی اور ان کے دل میں کرب اور تکلیف نہیں پیدا ہوتی ۔ کیوں؟ اس لئے کہ انہوں نے کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ سچی عبادت کا کیا نتیجہ ہوتا ہے اور اس سے کس طرح تسلی اور تشفی حاصل ہوتی ہے۔ اور کس طرح اس کی مدد اور نصرت ملتی ہے چونکہ اس بات کو انہوں نے سمجھا ہی نہیں ہوتا اس لئے ساری عمر عبادت کرتے کرتے مر جاتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آتا۔ کہ ہم غلط عبادت کر رہے ہیں دیکھو ایک شخص ہندوؤں میں پیدا ہوتا ہے ساری عمر عبادت میں گزار دیتا ہے بیسیوں بری خواہشوں کو دباتا ہے اور بیسیوں برے ارادوں سے باز رہتا ہے۔ قسم قسم کے جذبات کو قابو میں رکھ کر تپسیا کرتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے۔ لیکن اسے کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ جو کوشش اور محنت میں کر رہا ہوں یہ ٹھیک اور درست نہیں ہے اس لئے مجھے کوئی اور طریق اختیار کرنا چاہئیے ۔ اور اسے کیونکر یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے جبکہ وہ جانتا ہی نہیں ۔ کہ مجھے اس عبادت کے نتیجہ میں کیا حاصل ہونا ہے اور وہ کیا مقصد اور مدعا ہے جس کے حصول کے لئے میں یہ کوشش کر رہا ہوں ۔ رہا ۔ اگر دنیا میں لوگ اپنے مدعا اور مقصد کو سمجھ کر عبادت کریں تو ایک انقلاب آ جائے اور کروڑوں انسان مذاہب کی تحقیقات پر لگ جائیں ۔ موجودہ صورت میں جو ضد ۔ ہٹ اور اختلاف اور اصرار ہے اس لئے ہے کہ لوگوں نے مذہب کی