خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 452

خطبات محمود جلد (5) لد ١٥ ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کا تجربہ وسیع نہیں ہوتا وہ اسی دھن میں لگے رہتے ہیں کہ فلاں شخص مان لے تو سب لوگ مان لیں گے مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ پھر دفعہ تو کو کرغوں پھر بعض دفعہ وہ کسی میں کوئی معمولی نیکی دیکھ لیتے ہیں تو اُس کو چڑھا کر غوث و قطب اور ابدال تک کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ اور اگر کسی میں ان کو معمولی درجہ کی کوئی کمزوری نظر آتی ہے تو ابو جہل کا خطاب دینے درجہ دے دیتے ۔ اور اگر معمولی درجہ کی کوئی ہے تو ابوجہل کا ہیں۔ اگرکسی انکو معمولی درجہ کی میں ان کو باک نہیں ہوتا کبھی وہ ادنی باتوں کے بڑے عظیم الشان نتائج سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اور کبھی بڑی اور ہوتا وہ بڑے الشان اور عظیم الشان باتوں کے معمولی اور ادنی درجہ کے نتائج خیال کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ وہ تجربہ کار انسان بنیں ۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ الحمد لله ربّ العلمین۔ کہ اگر تم کوئی ایسی کامل ہستی دیکھنا چاہتے ہو جس میں کوئی عیب کوئی نقص اور کوئی سقم نہ ہو۔ تو وہ صرف اللہ ہی ہے۔ کوئی انسان ایسا نہیں ہو سکتا جس میں کوئی بھی سقم اور کمزوری نہ ہو۔ انبیاء علیہم السلام کا گروہ معصوم ہے۔ مگر بشریت کی کمزوریاں تو ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اور اجتہادی غلطیاں تو ان کو بھی لگتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ شرعی گناہوں سے وہ لوگ بالکل پاک ہوتے ہیں۔ اور کوئی شرعی گناہ ان سے سرزد نہیں ہوتا۔ تاہم بشری کمزوریاں ان میں بھی ضرور پائی جاتی ہیں ۔ وہ بیمار ہوتے ہیں۔ جسمانی تکالیف اٹھاتے ہیں۔ پس ہر قسم کے نقائص سے پاک تو صرف اللہ ہی کی ذار ہے۔ ایک انسان دوسرے کی کمزوریوں پر تو اعتراض کرتا ہے۔ لیکن اگر اپنے نفس کو دیکھے تو پھر اس کو خود معلوم ہو جائے گا کہ خود اس میں کس قدر کمزوریاں ہیں ۔ - ذات اسی طرح انسان اگر خوبیوں کو دیکھے تو کسی انسان کو کسی نہ کسی خوبی سے خالی نہیں پائیگا۔ ہر ایک انسان میں کچھ نہ کچھ خوبی ضرور ہوتی ہے۔ ابو جہل میں بھی خوبی تھی اور فرعون میں بھی ۔ اس میں کیا شک ہے کہ فرعون ایک محب وطن شخص تھا۔ اور اس کی خواہش تھی کہ اس کی قوم اور اس کا ملک ترقی کرے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ جو طریق اس نے اختیار کیا وہ خطرناک طور پر غلط تھا۔ جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا۔ اسی طرح ابو جہل اسلام کا ایک خطرناک دشمن تھا مگر ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ ایک بہادر آدمی تھا۔ وہ جو کچھ کرتا تھا صرف اس لئے کرتا تھا کہ اُسے صحیح اور درست سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے دُعا کی ہے کہ خدا یا اگر محمد (صلعم) سچا ہے تو مجھ پر پتھر برسا ہے۔ گویا اس کو یقین تھا کہ وہ حق پر ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باطل پر سمجھتا تھا۔ یہ بالکل الگ بات ہے کہ وہ آنحضرت کا دشمن اور اسلام کا خطرناک دشمن تھا۔ اور جو طریق اس نے :- بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الانفال ۔