خطبات محمود (جلد 5) — Page 433
خطبات محمود جلد (5) ۴۳۲ بتایا ہے کہ موجودہ روسی گورنمنٹ جنگ میں پہلے کی نسبت بہت زیادہ جوش سے کام لے گی۔ اس طرح ہمارے لئے دوہری خوشی ہے۔ ایک تو یہ کہ روسی سلطنت ہماری گورنمنٹ کی مدد اور تائید پہلے کی نسبت بہت زیادہ کرے گی اور دوسرے یہ ہے کہ یہ پیشگوئی ایسے صاف اور واضح طور پر پوری ہوئی ہے کہ کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ ابھی کچھ دن ہوئے ۔ میں گورداسپور گیا تو اسی پیشگوئی پر گفتگو کرتے ہوئے ایک وکیل صاحب نے کہا کہ کیا ہوا اگر زار کو معزول کر دیا گیا ہے۔ اس وقت تک بیسیوں زار معزول ہو چکے ہیں۔ اب کوئی اور زار بن جائے گا۔ جس طرح ایران میں باپ کو ہٹا کر بیٹے کو اور ترکوں نے ایک بھائی کو ہٹا کر دوسرے کو بادشاہ بنالیا تھا۔ اسی طرح یہاں بھی کو ہوگا۔ اس لئے یہ پیشگوئی تو پوری نہ ہوئی کیونکہ دوسر از اربن گیا۔ اور اس کا حال زار نہ ہوا۔ لئے یہ نہ دوسراز اور اگر چہ یہ غلط ہے کہ اسوقت تک بیسیوں زار معزول کئے گئے۔ لیکن ہم مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ۔ مگر اس سے تو موجودہ زار کے معزول ہونے کی پیشگوئی کی اور زیادہ شان ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ آج تک کی جو خبریں آئی ہیں۔ ان سے پتہ لگتا ہے کہ اب آئندہ کوئی زار نہ بنایا جائے گا۔ بلکہ پارلیمینٹ ہوگی ۔ گو یا زار کا ایسا حال زار ہوا کہ آئندہ کوئی زار ہی نہ ہوگا۔ پس خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ عظیم الشان پیشگوئی پوری کر کے دکھائی ہے۔ اس پر ہم جس قدر اس کی حمد کریں تھوڑی ہے اور جس قدر اس کا شکر بجالائیں کم ہے۔ اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے ہماری ترقی کا راستہ روس میں بھی کھل گیا ہے اور اب میرا ارادہ ہے کہ روسی زبان میں اشتہار شائع کراؤں تا کہ روس کے لوگوں کو بتا یا جائے کہ یہ جو کچھ تم نے کیا ہے۔ خُدا کی منشاء کے ماتحت کیا ہے۔ اور اس کی خبر خُدا نے اپنے ایک برگزیدہ انسان کے ذریعہ پہلے سے ہی دے رکھی تھی ۔ یہ خدا تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا فضل ہوا ہے ہم کہاں اس کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں مگر اس نے بتایا ہے کہ الحمد لله رب العلمین کہو۔ پس ہم یہی کہتے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا ہے نہ مال ہے نہ دولت ہے نہ اسباب ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ ہماری مدد اور تائید کے لئے اسباب پیدا کر رہا ہے۔ اور ایسے زبردست اسباب پیدا کر رہا ہے کہ جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے ہر وقت ہمیں اس کی حمد کرنی چاہئیے ۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس حمد کے پوری طرح ادا کرنے کی توفیق دے جو اس کے انعامات کے مقابلہ میں اس پر واجب ہے۔ الفضل ۲۷ مارچ ۱۹۱۷ء)