خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 403

خطبات محمود جلد (5) لد ١٠ 49 گورنمنٹ برطانیہ اور جماعت احمدیہ (فرموده ۱۲ مارچ ۱۹۱۷ء) تشہد و تعوذ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :- وَالتَّزِعَتِ غَرْقًا وَالنَّاشِطَتِ نَشْطًا وَالسَّابِحَتِ سَبْحًا فَالسُّبِقْتِ سَبْقًا ، فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا ) يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّجِفَةُ ، تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۔ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ يَقُولُونَ وَ إِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ وَ إِذَا كُنَّا عِظَامًا نَخِرَةً قَالُوا تِلْكَ إِذَا كَرَّةً خَاسِرَةٌ فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ (النزعت ا تا ۱۴) بعد ازاں فرمایا :- میں نے کسی پہلے خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا کہ ہر ایک جماعت اور قوم کا ایک مقصد اور مدعا ہوتا ہے۔ اور اس کے حصول کے لئے جس قربانی کی بھی اسے ضرورت پڑتی ہے۔ کرتی ہے لیکن اگر نہ کرے۔ تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ کامیاب مظفر اور منصور وہی قوم ہوتی ہے۔ جو اپنے اس مقصد اور مدعا کو حاصل کرنے کے لئے جسے وہ اپنا مطمح نظر بنا لیتی ہے ہر ایک چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اور ہر ایک پیاری سے پیاری اور عزیز سے عزیز چیز کو اس کے لئے ترک کر دیتی ہے۔ اسلام میں انسان کا مقصد و مدعا دین اور اللہ تعالیٰ کی رضا قرار دیا گیا ہے۔ اس کے حصول کے لئے کوئی چیز خواہ وہ کتنی ہی کیوں نہ پیاری ہو قربان کر دینی ضروری اور لازمی ہے۔ چنانچہ خُدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرما دیا ہے کہ وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں مال یا جان یا اولا د کو عزیز رکھتا ہے۔ وہ ایمان دار نہیں ہے۔ ابتداء میں ہر ایک بات سے پوری پوری واقفیت نہیں ہو سکتی۔ اور اسلام کی ابتداء تو ایک ایسی قوم سے ہوئی تھی جو کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔ اس لئے اسے قدم قدم پر سیکھنا اور ہر ایک بات کو سمجھنا پڑا۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یا رسول اللہ آپ مجھے سوائے اپنی جان کے سب چیزوں سے پیارے ہیں ۔ چونکہ انہیں اس وقت تک علم کامل نہ تھا اس لئے یہ کہا۔ رسول کریم