خطبات محمود (جلد 5) — Page 392
خطبات محمود جلد (5) سیاسی خلافت اعتقاد کرتا ہوں ۔ ۳۹۱ مجھے یہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ دشمنی اور عداوت انسان کو کہاں سے کہاں تک لے جاتی ہے اور حق اور صداقت سے پھرنا کیسی بری حالت تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہی مولوی صاحب ہیں جنہوں نے چند ہی مہینہ پہلے مجھے لکھا تھا کہ آپ میری کتاب سے ناراض نہ ہوں۔ پہلے خلفاء کے وقت بھی اختلاف ہوتا رہا ہے۔ پھر آپ ہی اختلاف کی مثالیں بھی دی تھیں کیا اسوقت مولوی صاحب کو یہ یاد نہ رہا تھا کہ مجھے خلفاء سے وہ مشابہت دے رہے ہیں وہ حکمران تھے پھر انہوں نے کیوں ایسا جرم کیا۔ جو بقول ان کے سیاسی خیالات کا پتہ دیتا ہے۔ پھر میں کہتا ہوں ۔ اگر مولوی صاحب کی یہ بات درست ہے کہ میں نے انوار خلافت میں جو تاریخ خلیفہ ثالث و رابع کی بہ نسبت خوارج لکھی ہے۔ اس لئے میں اپنی خلافت کو سیاسی خلافت اعتقاد کرتا ہوں تو انہیں معلوم ہو جانا چاہئیے کہ اس طرح تو سب سے بڑی اور مضبوط سیاست کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھی ہے۔ کیونکہ آپ الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں :۔ خُدا تعالیٰ دو ۲ قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ (۱) خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔ (۲) ایسے وقت جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے۔ اور دشمن زور میں آجاتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔ اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں۔ اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت میں ہوا۔ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی۔ اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے ۔ اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے ۔ تب خداوند تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا۔“ اس کے بعد اپنی جماعت کو فرماتے ہیں :- وو سواے عزیز و ! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سو اب