خطبات محمود (جلد 5) — Page 385
خطبات محمود جلد (5) ۳۸۴ کا سلسلہ چلے تو پھر کسی خرابی لازم آتی ہے۔ گو اصول میں اختلاف نہیں ہوتا۔ مثلاً قانون ہے کہ جو شخص کسی کو قتل کرے۔ اس کو قتل کر دیا جائے مگر قاتل کو کون قتل کر سکتا ہے۔ وہی جس کے ہاتھ میں قدرت نے کوقتل کر مگر کوکو سکتا وہی سیاست دی ہے۔ لیکن اگر مقتول کے رشتہ دار قاتل کو قتل کرنا چاہیں تو یہ ان کا سیاست میں دخل دینا ہے لیکن اگر اول کے ادا کرنا ایں تو ان کی بات میں دل دیا ہوگا۔ جس کے بُرے نتیجہ سے وہ لوگ بیچ نہیں سکتے ۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری دینی معاملات ہیں ۔ ان میں ہر شخص اگر خود بخود فتوی دینے لگے تو جماعت میں ایک فتنہ عظیم برپا ہو سکتا ہے۔ یہاں پر زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اور ذراسی بے احتیاطی سے انسان گنہگار ہو جاتا ہے جب انسان حکومت کی سیاست میں دخل دے کر سزا سے بچ نہیں سکتا تو دینی سیاست میں دخل دے کر کوئی شخص کیسے بچ سکتا ہے۔ حکومت کی سیاست میں جب کوئی شخص کسی بات کو قانون کے خلاف پاتا ہے تو ان تک پہنچا دیتا ہے جن کے سپر د حکومت نے اس کا فیصلہ کرنا کیا ہوتا ہے۔ ایسا ہی دینی امور میں بھی ہونا چاہیے اور خلافت کی ضرورت بھی یہی ہے کہ جماعت کا ایک منتظم ہو۔ اور ہر دینی امر کود یکھ کر فیصلہ کرے نہ کہ ہر شخص کو یہ اختیار ہے کہ خود ہی فیصلہ کرنے بیٹھ جائے۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کسی شخص سے حضرت مسیح موعود کے حکم کے خلاف ہوا۔ مثلاً کسی نے اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے دی۔ تو وہ فورا اُس کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ حق نہیں کہ خود بخود اس کا بائیکاٹ کریں۔ ان کو چاہئیے کہ ہم تک معاملہ پہنچائیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ وہ مجرم ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو اس نے کن اسباب کے ماتحت ایسا کیا ہے۔ آیا بے علمی سے اس سے یہ کام ہو گیا یا کوئی اور وجہ ہے۔ پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ جب کوئی ایسی بات دیکھیں تو بجائے اس کے کہ خود بخود فیصلہ کر لیں کہ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ یا اس کو احمدی نہ سمجھیں۔ ہمیں اطلاع دیں۔ اور جب تک یہاں سے کوئی فیصلہ نہ ہو۔ اس وقت تک خود ہی کوئی فیصلہ نہ کریں۔ کیونکہ اس سے فساد بڑھتا ہے۔ دیکھو میں نے مثال دی ہے کہ اگر کوئی کسی کو قتل کر دے تو قانونا اگرچہ قاتل قتل کیا جانا چاہئیے ۔ مگر مقتول کے رشتہ داروں کو یہ حق نہیں کہ فوراً اُس کو قتل کر دیں۔ ہاں وہ حکومت تک پہنچا دیں۔ حکومت جو سزا چاہے تجویز کرے۔ اسی طرح ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئیے کہ وہ اگر اپنی جماعت کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ یا امام یا کسی اور فرد کی کسی بات کو حضرت مسیح موعود کے حکم کے خلاف دیکھیں تو یہ نہ ہو کہ اس کو جھٹ بائیکاٹ کر دیں بلکہ ان کو چاہیے کہ ہم تک پہنچادیں آگے ہم خود فیصلہ کریں گے۔ غیر احمدی کولڑ کی دینا۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود نے اس کو سخت ناپسند کیا ہے