خطبات محمود (جلد 5) — Page 382
خطبات محمود جلد (5) ۳۸۱ والا جو نہ کم ہو نہ زیادہ۔ بعض لوگ گھوڑے خریدتے ہیں ۔ اور ان سے کوئی کام نہیں لیتے ۔ اس لئے وہ کھڑے کھڑے بے حد موٹے ہو جاتے ہیں۔ اور بعض اتنا کام لیتے ہیں جس سے ان کے پٹھے گل کر ان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو سائس الدو اب نہیں کہہ سکتے ۔ تو جو آدمی افراط یا تفریط سے کام لیتا ہے وہ سیاسی آدمی نہیں کہلا سکتا۔ مسلمانوں کی سلطنتوں میں اُن کی رعا یا سست پڑی رہتی ہے۔ لوگوں سے خاطر خواہ کام نہیں لیا جاتا۔ اور نہ اُن سے خدمات پورے طور پر ادا کرائی جاتی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ترقی کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے گھوڑے سے کام نہ لیا جائے ۔ اور وہ گھوڑا موٹا ہوتا رہے۔ حتی کہ کام دینے کے بالکل قابل نہ رہے۔ مسلمانوں کے مقابلہ میں زیادہ کام لینے والا یورپ میں نپولین ہوا ہے۔ اس نے اپنی قوم سے ایسا کام لیا۔ اور اس کثرت سے لیا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ۔ اور بعد میں ایک عرصہ تک کے لئے اپنے دشمنوں کے مقابلہ سے عاجز آگئی۔ پس جہاں آج کل ایسے مسلمان حکمران جو اپنی رعایا سے کام نہیں لیتے وہ سیاست دان نہیں ہیں۔ اسی طرح پنپولین جس نے اپنی قوم سے اتنا کام لیا۔ وہ بھی سیاست دان نہیں کہلا سکتا۔ غرض سیاست کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ کام اس میانہ روی سے لیا جائے۔ جو نہ زیادہ ہو اور نہ کم ۔ اور یہ سیاست صرف حکومت سے ہی تعلق نہیں رکھتی۔ بلکہ ہر ایک تاجر کی ایک الگ سیاست ہے۔ اور ہر ایک پیشہ ور کی الگ۔ تاجر کی سیاست تو یہ ہے کہ وہ باہر سے مال نہ اس بے احتیاطی اور کثرت سے خریدے کہ اس کی دوکان میں ہی پڑا خراب ہوتا رہے اور نہ اتنا کم لائے کہ لوگوں کی ضروریات بھی پوری نہ ہوں بلکہ وہ ضروریات کو دیکھتا ہو ا کسی چیز کی خریداری پر ہاتھ ڈالے تا کہ نہ اس کو ایک لمبے عرصہ تک خریداروں کا انتظار کرنا پڑے اور نہ یہ ہو کہ اس کے ہاں سے مال ہی نہ ملے۔ اسی طرح پیشہ ور کی سیاست یہ ہے کہ نہ تو اشیاء کے تیار کرنے میں اتنی دیر لگائے جس سے مانگ کا وقت گذر جائے اور نہ اتنا پہلے کہ ابھی مانگ کا موقع ہی نہ آئے ۔ اور وہ اشیاء کے تیار کرنے میں مصروف اتنا رہے۔ اسی طرح پر گھر کی بھی ایک سیاست ہے۔ چنانچہ باپ کے متعلق اولاد ہے خاوند کے متعلق بیوی ہے۔ اُسے چاہیے کہ نہ تو وہ ان کو اس طرح چھوڑ دے کہ وہ کسی کام کے ہی نہ رہیں اور نہ اس سے اتنا کام لے کہ وہ چور ہو جائیں ۔ مثلاً بچوں کو پڑھنے پر اتنا مجبور کرے جس سے ان کے دماغ گند ہو جائیں ۔ اور وہ آئندہ علمی ترقی سے محروم رہ جائیں گھر سے بڑھ کر جماعتوں میں سیاست چلی جاتی ہے جہاں ہر ایک شخص کے سپر د کچھ کام ہوتے ہیں۔ اور ہر ایک اپنے فرائض منصبی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے فرائض سے قطع نظر کر کے دوسرے کے فرائض میں دخل دے تو یہ سیاست کے خلاف ہوگا۔