خطبات محمود (جلد 5) — Page 377
خطبات محمود جلد (5) ۳۷۶ غرض لا إله إلا اللہ اسلام کا ایک بیج ہے جو ایسی زمین میں پڑ کر پھل پھول نہیں لا سکتا جو اس کی اہل نہ ہو۔ اگر ہم خدا کے فعل یعنی کا ئنات دنیا کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز خدا کی ہستی کی محتاج ہے۔ کوئی ایسی چیز نہیں جو قائم بالذات ہو۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ رویا میں لا إله إلا اللہ کے معنے سمجھائے گئے کہ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اپنے وجود کے قیام کے لئے کسی دوسری چیز کی محتاج نہ ہو۔ مگر خدا ایک ایسی ہستی ہے جو قائم بالذات ہی نہیں بلکہ قیوم بھی ہے یعنے دوسروں کو بھی قائم رکھنے والی ہے۔ پس جو اشیاء اپنے وجود کے قیام کے لئے کسی دوسری چیز کی محتاج ہیں وہ اس بات کی اہل نہیں کہ ان کو خُدا یا معبود کہا جائے ۔ اس سورۃ میں مسلمانوں کو یہی مضمون بتایا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی چیز قائم بالذات نہیں ۔ مثلاً چھت ہی ہے جو قائم نہیں رہ سکتی ۔ جب تک کہ دیواریں نہ ہوں۔ چھت خواہ لوہے کی ہو۔ مگر دیواریں کمزور ہوں تو چھت کی مضبوطی کچھ کام نہیں دے سکتی۔ کیونکہ چھت کا قیام اپنی مضبوطی کی بناء پر نہیں بلکہ اس کا قیام ہے دیواروں پر اور جب دیواریں کمزور ہیں تو چھت بھی گویا کمزور ہی ہے۔ اس کی جہاں دیواریں گریں۔ وہاں چھت بھی ضرور زمین پر آ رہے گی۔ لیکن اگر دیواریں ایسی ہیں جو ایک دو ماہ یا سال دو سال یا سو سال یا ہزار سال تک رہ سکتی ہوں تو چھت بھی اس مدت تک رہ سکتی ہے جو چیز کسی دوسری چیز کے سہارے پر قائم ہو وہ اس وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک سہارا دینے والی چیز قائم رہے۔ مگر جونہی اس کا خاتمہ ہو ا وہ بھی جاتی رہے گی۔ چونکہ دنیا کی اشیاء میں انسان بھی داخل ہے اور وہ بھی دوسری چیزوں کے سہارے قائم رہتا ہے اس لئے اس پر بھی یہ بات عاید ہوتی ہے لیکن ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی خواہش ہے کہ وہ ہمیشہ قائم رہے۔ اور ہر ایک انسان کے دل میں خواہش ہے اور اس خواہش سے کوئی دل خالی نہیں۔ اور کوئی انسان نہیں جس کے دل میں یہ آرزو نہ ہو کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔ اور فنا نہ ہو۔ خواہ کوئی جاہل سے جاہل ہی کیوں نہ ہو ۔ مگر اس کی بھی یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے اور اس کو موت نہ آئے۔ جب ہم حج پر گئے تو میر ناصر نواب صاحب سے ایک شخص ملا جو نہایت ضعیف تھا اور حج کو جا رہا تھا۔ ایک دن میں نے اس کو منی کے مقام پر پوچھا کہ میاں عبدالوہاب یہ اس کا نام تھا۔ تمہارا مذہب کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ٹھہر جاؤ سوچ کر بتاتا ہوں۔ میں نے کہا مذہب کے متعلق سوچنے کی کونسی بات ہے۔ جو تمہارا مذہب ہو بتا دو۔ کہنے لگا جلدی نہ کرو بتاتا ہوں ۔ پھر کہنے لگا اچھا جب میں حج سے واپس جاؤں گا تو اپنے وطن سے مولوی صاحب سے پوچھ کر اپنا مذہب لکھوا بھیجوں گا۔ میں نے کہا تم خود بتاؤ کہنے لگا اچھا ٹھہر و بتاتا ہوں۔ میرا مذہب اعظم ہے۔ میں نے کہا میاں اعظم تو کوئی مذہب نہیں ۔ کہنے لگا ٹھہر جاؤ جلدی نہ کرو سوچنے دو ۔ میرا مذہب علیہ علیہ ہے۔ میں نے کہا کہ میاں یہ بھی کوئی مذہب نہیں۔ آخر کہنے