خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 361

۳۶۰ 41 خطبات محمود جلد (5) خُدا کے فضلوں کو دیکھ کر زیادہ شکر گزار بنو فرموده ۵ جنوری ۱۹۱۷ء تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- بعد اللہ تعالیٰ کے احسانات کو جو اس کے اپنے بندوں پر ہیں کون ہے جو گن سکے۔ وہ احسانات اپنے اندر عجیب نوعیت رکھتے ہیں۔ اگر ہماری جماعت کے لوگ ان احسانات کو گئیں جو اُن پر ہیں۔ تو کوئی شخص ان کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ اور نہ کوئی جماعت ان انعامات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہماری جماعت پر ہو رہے ہیں ۔ اگر چہ سب ہی لوگوں پر فرض ہے کہ خُدا کے احسانات پر الحمد للہ کہیں ۔ مگر ہماری جماعت پر تو خاص طور پر فرض ہے کہ وہ الحمد للہ کہے اگر ہم سوچیں کہ اللہ تعالیٰ کس کس رنگ میں ہماری نصرت فرماتا اور کس کس طرح ہمارے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے تو بے اختیار الحمد للہ کہنے کو جی چاہتا ہے۔ اللہ تو مالک اور بادشاہ ہے۔ مخلوق میں سے بھی اگر کوئی شخص احسان کرے تو ہم کس طرح اس کا شکریہ ادا اس کا کرتے ہیں۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس کے احسان کا بدلہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکریہ ادا کرنا انسان کے شکریہ کے ادا کرنے کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان زبان سے خدا تعالیٰ کے احسانات کا اقرار کرے یعنی صرف زبانی اقرار ہی شکریہ ہے۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں پر بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس کے احسانات تو اس قدر ہیں کہ کوئی گن بھی نہیں سکتا۔ مگر ان کا شکریہ نہایت آسان ہے۔ لیکن افسوس کہ بہت سے انسان ہیں جو زبان اور دل سے بھی خدا کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ یوں تو ہر سال ہی ہماری جماعت کو مشکلات پیش آتی ہیں ۔ مگر چند سال سے وہ لوگ جو ہماری جماعت سے الگ ہو گئے ہیں ۔ خواہ وہ احمدی کہلائیں ۔ مگر ہماری جماعت میں نہیں ہیں ۔ ان کی طرف سے ہمارے خلاف بہت زیادہ کوشش ہو رہی ہے اور وہ ہمیں ہر طرح نقصان پہنچانے میں لگے رہتے ہیں ۔ مگر نتیجہ کا وقت سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔ اس پر معلوم ہو سکتا ہے۔ کہ ان کی کوششیں