خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 340

خطبات محمود جلد (5) ۳۴۰ حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔ اور اگر ایسے راویوں کی روایت سے کوئی حدیث پہنچے جو سچے اور معتبر ہوں اور جن کے حافظہ میں نقص نہ ہو تو اس حدیث کو ضعیف نہیں کہتے ۔ پس جس حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہے اسکے یہ معنی نہیں ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اسی طرح فرمائی ہے مگر وہ آپ کا ادنیٰ قول ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے پہنچانے والوں نے ہم تک درست اور صحیح نہیں پہنچائی۔ اس کے متعلق سوال راویوں کے سچے اور جھوٹے ہونے پر ہے۔ جس حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہے وہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے راوی قابلِ اعتبار نہیں ہوتے اور جس کو صحیح کہا جاتا ہے وہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے راوی قابلِ اعتبار اور سچے ہوتے ہیں۔ اب بحث اس بات پر ہے کہ کیا ہم ایسے راویوں کی باتیں مانیں جن کے سچے اور معتبر ہونے کا بھی اعتبار نہیں۔ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کو مانیں جو کہتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے۔ دیکھو ایک شخص کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے لیکن اس نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو نہیں شنا بلکہ بیسیوں ایسے انسانوں کی روایت سے اس تک وہ بات پہنچی ہے جن میں سے بعض جھوٹے ہیں۔ بعضوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا بعضوں کی نسبت پتہ ہی نہیں کہ کون تھے اور بعضوں کی نسبت یہ شبہ ہے کہ جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہم نے یہ بات سنی ہے اس سے وہ ملے بھی ہیں یا نہیں ایسے لوگوں کی معرفت پہنچی ہوئی کسی بات کو ہم مان لیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو کہتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے براہ راست فلاں بات بتائی ہے۔ ہر ایک وہ شخص جس کے دل میں حق کا تھوڑا سا مادہ بھی ہے وہ یہی کہے گا کہ حضرت مسیح موعود کے الہامات کو مانا چاہیے لیکن کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہیں حضرت مسیح موعود کے الہامات کو نہیں ماننا چاہیے بلکہ ان لوگوں کی باتوں کو ماننا چاہئیے اور ان کے ماتحت حضرت صاحب کے الہامات کو رکھنا چاہئیے جو ضعیف حدیث بیان کرتے ہیں۔ ایسا کیوں کہا گیا صرف ہمارے بغض اور حسد کی وجہ سے۔ اب جبکہ انہوں نے یہ کہہ دیا تو انہیں اپنی تائید کے لئے دلائل کی بھی ضرورت پیش آئی اور سب سے بڑی دلیل انہوں نے یہ دی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہام ایسے ہیں جن میں شرک پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک تو یہ ہے کہ أَنْتَ مِنِی بِمَنْزِلَةِ وَلَدِی الیکن میں کہتا ہوں کہ اگر کسی متشابہ الہام کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کے الہامات ضعیف حدیثوں کے بھی ماتحت رکھے جائیں گے تو پھر قرآن کریم کو بھی ضعیف حدیثوں کے ماتحت رکھنا پڑے گا کیونکہ اس میں بھی متشابہ آیات ہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں ہے کہ حضرت مسیح مردے زندہ کرتے تھے ۔ پھر مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَهُى رسول کریم ا تذکره ص ۵۲۶ الانفال : ۱۸