خطبات محمود (جلد 5) — Page 327
خطبات محمود جلد (5) ۳۲۷ دنیا کی ترقی و تنزل میں اس کا بہت بڑا تعلق ہے۔ شریعت اور معرفت کی دنیا میں عملاً لوگ بہت عزت کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جہاں دنیاوی منافع کا خیال نہ ہو وہاں بہت سے لوگ دین کی خاطر لڑتے اور جوش دکھاتے ہیں خواہ وہ کیسے ہی بے دین کیوں نہ ہوں اور شریعت اور قوانین الہیہ سے انہیں کوئی تعلق نہ ہو۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ اکثر لوگ دین کو دنیا پر مقدم تو کرتے ہیں مگر جہاں دُنیا دین کے مقابلہ میں نہ ہو ایسے موقعہ پر جتنا جوش اس قسم کے لوگ دین کے لئے دکھاتے ہیں وہ کسی اور چیز کے لئے نہیں دکھاتے۔ اگر ایک شخص کسی گاؤں میں رہتا ہو اور چوری یا کوئی اور برا فعل کرتا ہو تو لوگ اس سے قطع تعلق نہیں اور یا کریں گے۔ بلکہ کہیں گے کہ اس کا ایمان تو سلامت ہے۔ لیکن جہاں مذہبی اختلاف پید اہو اوہاں بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے، بیوی خاوند سے اور خاوند بیوی سے ، بہن بھائی سے اور بھائی بہن سے بالکل جدا ہو جاتے ہیں اور وہ سب قرابت کے تعلقات دور ہو جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان میں اگر چہ کئی عیب ہوتے ہیں اور عملاً انہیں مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ مذہب کے لئے جوش دکھاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب نے کس قدر دلوں پر رعب جمایا ہوا ہے اور ایک اچھی اور عمدہ چیز سمجھی جاتی ہے۔ واقعہ میں مذہب ایک اعلیٰ اور پیاری چیز ہے اور جو سچا مذہب رکھنے والے اور عرفان سے ایک مذہب کو قبول کرنے والے ہیں ان کے لئے سب سے بڑی اور سب سے اعلیٰ نعمت مذہب ہی ہے شریعت قانون اور وہ ذرائع جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے ملے ہیں اور جن سے انسان خدا کو معلوم کر سکتا ہے اگر یہ اس کو نہ دئے جاتے تو کوخدا پہنچنے خدا کو کونہ انسان اور حیوان برابر ہوتے ۔ پس یہی وہ انعام ہے جو اسے حیوانوں سے اعلیٰ اور برتر ثابت کرتا ہے اس لئے ہر ایک نے۔ انسان کو چاہیے کہ اس کی قدر کرے اگر مذہب کو علیحدہ کر دیا جائے تو گدھے بھی کھاتے پیتے ہیں اور انسان بھی۔ وہ بھی ہوا سونگھتے ہیں اور انسان بھی سونگھتا ہے۔ اس صورت میں تو ایک انسان اور گدھے میں کوئی فرق نہیں ہے ہاں انسان کی قدر شریعت اور قوانین الہیہ کے جاننے سے ہے اس لئے اس کے دل میں اس کی عزت اور محبت بہت زیادہ ہونی چاہیے کیونکہ انسان جو سب چیزوں سے بڑا سمجھا جاتا ہے اسی شریعت کے حامل ہونے سے ورنہ اور کوئی فرق نہیں ۔ یہ ایک عام بات ہے جو چیزیں اعلیٰ ہوتی ہیں ان کو چھپا یا نہیں جاتا۔ ہمیشہ انسان اپنے کسی نقص اور کمزوری یا بری چیزوں کو چھپاتا ہے اور اپنی اعلیٰ درجہ کی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کسی شخص کو کوئی ایک نسخہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ نہ کوئی طبیب ہوتا ہے نہ مرض کے اسباب کا علم رکھتا ہے اور نہ ہی وہ مرض کے اسباب اور علامات کو جانتا ہے ۔ مثلاً کسی کو کھانسی ہو تو وہ صرف یہ کہ