خطبات محمود (جلد 5) — Page 319
خطبات محمود جلد (5) ۳۱۹ تو بہت معمولی نکلتی ہے۔ اسی طرح کبھی ایک بات بالکل معمولی معلوم دیتی ہے لیکن جب پوری ہوتی ہے تو بڑے عظیم الشان نتائج پیدا کرتی ہے۔ کبھی جس رنگ میں کوئی بات کہی جاتی ہے اس رنگ میں پوری ہوتی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ انسان کی نظر ایک بات کو زوردار جھتی ہے مگر دراصل وہ کمزور ہوتی ہے۔ اور ہےاور وہی بت کو زوردار ہے مگر وہ ہوتی اور اسی طرح ایک بات کو انسان اپنے نزدیک کمزور سمجھتا ہے مگر دراصل وہ بہت زور دار ہوتی ہے۔ دیکھو ظا ہر نظروں میں بدر اور احزاب کی لڑائیوں میں بڑی بھاری فتح ہوئی تھی مگر خدا تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو جسے ظاہر میں شکست سمجھا گیا تھا بڑی بھاری فتح قرار دیا ہے۔ تو کبھی ظاہرہ الفاظ سے ایک بات بڑی معلوم ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ معمولی نکلتا ہے مگر اس لئے نہیں کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے غلطی سے معمولی الفاظ کی بجائے زور دار الفاظ میں اس کو بیان کیا ہوتا ہے بلکہ اس لئے کہ وہ واقعہ بڑے بڑے نتائج پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بات کے متعلق الفاظ معمولی ہوں اور واقعہ بہت ہیبت ناک ظہور پذیر ہو اس لئے نہیں کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو ایسا کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو ایسا معلوم نہ تھا اس لئے اس نے معمولی الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہوتا ہے بلکہ اس لئے کہ گو وہ بظاہر خطر ناک اور بڑا واقعہ ہوتا ہے مگر نتائج کے لحاظ سے کوئی ایسا خطرناک نہیں ہوتا۔ اور اگر کوئی پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے جن الفاظ میں بیان کی جاتی ہے انہیں میں پوری ہوتی ہے تو اس کے متعلق یہ خیال نہیں ہوتا کہ اسی طرح پوری ہوئی بلکہ اس کے نتائج ہی ایسے مد نظر ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی کامیابی سمجھتا ہے اور اپنے خیال میں فتح حاصل کر چکا ہوتا ہے لیکن وہ فتح کوئی دیر پا نہیں ہوتی فورا ہی دشمن دوبارہ حملہ کر کے اسے شکست دے دیتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک کامیابی کو انسان بہت معمولی سمجھتا ہے مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اُسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی معمولی کو کامیابی نہ تھی بلکہ بہت بڑی تھی کیونکہ اس کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔ اس قسم کے نظارے ہم دنیاوی جنگوں میں بھی کثرت سے دیکھتے ہیں۔ آج کل وہ لوگ جو جنگ کی خبریں پڑھتے ہیں وہ کثرت سے اس قسم کے واقعات بھی پڑھتے ہیں کہ ایک کامیابی کو بہت بڑا سمجھا جاتا ہے لیکن بعد میں اس کے متعلق کہنا پڑتا ہے کہ یہ بہت معمولی تھی ۔ اسی طرح ایک فتح کو بہت معمولی قرار دیا جاتا ہے لیکن بعد میں پتہ لگتا ہے کہ وہ بہت اہم فتح ہے۔ چند ہی دن ہوئے ایک خبر آئی تھی کہ ایک معمولی سانا کہ فتح ہوا ہے لیکن اس کے متعلق بعد میں یہ خبر آئی کہ جرمن اس کے فتح کرنے کے لئے بڑا زور مار رہے ہیں کیونکہ اس راستہ سے وہ اپنی فوجوں کو اسلحہ وغیرہ پہنچایا کرتے تھے۔ تو وہی نا کہ جو پہلے معمولی سمجھا گیا تھا بعد میں بہت بڑا قرار دیا گیا۔ لیکن خدا تعالیٰ تو پہلے ہی ہر ایک چیز کے نتائج سے واقف ہوتا ہے اس لئے جس واقعہ سے بڑے اہم نتائج نکلنے ہوتے ہیں اسے غیر معمولی قرار دیتا ہے خواہ بظاہر وہ چھوٹا ہی نظر آئے۔ اور جس سے معمولی نتائج نکلنے ہوں اسے معمولی کہتا ہے خواہ بظاہر وہ بڑا ہی ا