خطبات محمود (جلد 5) — Page 316
خطبات محمود جلد (5) ۳۱۶ ہوا ہے چلتا آ رہا ہے۔ اب ایک نیا سال شروع ہوا ہے۔ اور کسی نئے سال کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہر آنے والا سال نیا ہی ہوتا ہے اور ہر بارہ ماہ کے بعد نہ بارک ماہ کے بعد نیا سال شروع ہو جاتا ہے۔ اتا ہے۔ پس یہ کوئی نئی بات نئی بات نہیں ہے۔ قانون قدرت کے ماتحت ایسا ہوتا آیا ہے اور اب بھی ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی خاطر چاند، سورج اور ستاروں کے لئے رفتار مقرر کی ہوئی ہے اسی رفتار کے ماتحت دن، ہفتے، مہینے اور سال بدلتے رہتے ہیں۔ پس نئے سال کا چڑھنا کوئی نئی بات نہیں مگر اس سال کے متعلق بعض اندازوں کے مطابق ایک پیشگوئی ہے۔ بعض اندازے میں نے اس لئے کہا ہے کہ پیشگوئی کے الفاظ صاف نہیں ہیں بلکہ استدلال کیا گیا ہے اور مختلف استدلال کئے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں جو بارہ سو اٹھانوے اور تیرہ سو پینتیس دن کا ذکر آتا ہے یہ ہجری سنہ ہے کیونکہ الہامی زبان میں دن بمعنی سال کے ہوتے ہیں اس لئے بہتوں کی نظریں اس کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ بعضوں کی تو اس لئے کہ یہ ایک خاص پیشگوئی ہے اور بعضوں کی دیگر وجوہات سے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آخری سال حضرت مسیح کی آمد کا ۱۳۳۵ ہے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ انبالہ سے ایک شخص نے اشتہار شائع کیا تھا غالیا ۵ یا ب کا ذکر ہے اس میں اس نے لکھا تھا اور بڑے زور سے لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی آمد ۳۳۵ باھ میں ہوگی ۔ اسی طرح دہلی سے ایک شخص نے رسالہ لکھا ہے اس نے بھی ۱۳۳۵ھ آخری میعاد حضرت مسیح موعود کے آنے کی رکھی ہے۔ یورپ کے لوگوں میں سے بھی بعضوں نے مختلف حسابات کے ماتحت اس بات کا فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ ۳۳۵ باھ مسیح کی آمد کا سال ہے۔ اسی بناء پر اس کا بڑا انتظار ہو رہا تھا اب جو یہ سال آگیا ہے تو اس کے نتائج کا انتظار ہے اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ان بارہ مہینوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکروں کو ایک اور نا امیدی ہوگی اور ان میں سے جو عقلمند اور دانا ہوں گے وہ سمجھ لیں گے کہ جس مسیح نے آنا تھا وہ آچکا اور کسی نے نہیں آنا تو اس طرح ہمارے لئے ایک فتح تو ضروری ہے اور وہ یہ کہ دشمن نے جو اندازہ لگایا ہوا ہے کہ ۳۳۵ باھ میں حضرت مسیح نے آنا ہے وہ آچکا ہے اب ان کے لئے دوہی باتیں ہوں گی یا تو یہ کہ وہ کہہ دیں کہ کسی مسیح نے نہیں آنا اور یا یہ کہ جس نے آنا تھا وہ آگیا۔ اب سوائے ان لوگوں کے جو یہودیوں کی طرح ڈھیٹھ ہوں گے کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح ناصری کی آمد کو انیس سو سال ہو گئے مگر وہ ضد اور تعصب کی وجہ سے اس وقت تک اس خیال کو ترک نہیں کرتے کہ مسیح نے آنا ہے۔ وہ بھی یہی کہتے رہیں گے کہ مسیح موعود نے ابھی آنا ہے اور ایسے لوگوں کا مسلمانوں میں سے پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہود سے مشابہت دی ہے مگر جو دانا اور سمجھدار ہوں گے اور جو تعصب اور عداوت ، ضد اور شرارت سے انکار نہیں کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ جن پیشگوئیوں کے مطابق ۳۳۵ باھ میں مسیح موعود کی آمد کا اندازہ لگایا گیا تھا وہ اندازہ پورا