خطبات محمود (جلد 5) — Page 308
٣٠٨ 35 خطبات محمود جلد (5) دعا کے ساتھ سامان سے کام لینا بھی ضروری ہے (فرموده ۲۷ اکتوبر ۱۹۱۶ء) حضور نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر فرمایا :- اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے ہی جو کام ہوتا ہے ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے ارادے اور منشاء کے ماتحت بنی نوع انسان کے لئے کچھ قوانین بھی مقرر فرمائے ہیں۔ اگر انسان ان سے ایک طرف ہو جاتا ہے تو دُکھ اُٹھاتا ہے۔ اس میں تو کچھ شک نہیں کہ دُعا اور تو گل کا مسئلہ ایک اہم اور ضروری مسئلہ ہے۔ اور یہ بات بالکل درست ہے کہ جو کچھ دُعا کر سکتی ہے وہ کوئی اور چیز نہیں کر سکتی ۔ اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ سامان کو بھی اس میں بڑا دخل ہے۔ ہاں صرف سامان پر ہی بھروسہ کر لینا کہ جو کچھ ہو سکتا ہے بس انہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے یہ شرک ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا اتعلمون ماذا قال ربکم کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا۔ صحابہؓ نے عرض کی اللہ اور اُس کا رسول خوب جانتے ہیں ہمیں تو علم نہیں ۔ آپ نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے من قال مطر نا نبوء کذا و کذا کہ جس نے کہا بارشیں فلاں فلاں ستارے کے اثر سے ہوتی ہیں اور یہ بارش جو ہوئی تو اسی لئے ہوئی کہ اس ستارے نے اپنا اثر کیا۔ ایسا شخص کا فربی و مؤمن بالکواکب۔ وہ میرا تو کافر ہوتا ہے لیکن ستاروں پر ایمان لانے والا ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ موسموں پر کواکب کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ چاند اور سورج بھی کواکب میں سے ہی ہیں اور ان کا موسموں کے ساتھ بڑا بھاری تعلق ہے مگر باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بارش فلاں فلاں ستارے کے اثر سے ہوئی وہ اللہ کے کافر ہیں اور ستاروں کے مومن ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ستاروں کے تغیرات کا کوئی اثر ہی نہیں ۔ بعض لوگ کم فہمی کے باعث ا بخاری کتاب المغازی باب غزوة الحديبية -