خطبات محمود (جلد 5) — Page 302
خطبات محمود جلد (5) ان سے دور چلے گئے ہیں ۔ ۳۰۲ تمام ہندوستان میں یہ بات نظر آتی ہے کہ مسلمان السلام علیکم کہنے کو عیب سمجھتے ہیں اور بہت ایسے ہیں کہ جن کو اگر السلام علیکم کہہ دیا جائے تو لڑ پڑتے ہیں کہ کیا ہمیں تم دُھنیا یا جولاہا سمجھتے ہو۔ گویا ان کے نزدیک السّلام علیکم ایک ایسی معیوب بات ہے جو صرف جولا ہوں اور دھنیوں کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے دوسروں کے لئے نہیں۔ بعض اسلامی ریاستوں میں تو یہ حکم جاری کر دیا گیا ہے کہ والی ریاست کو السلام علیکم کہنا ہتک سمجھی جائے گی۔ اور اگر کسی نے کہا تو اُسے سزادی جائے گی۔ ہاں کورنش بجالانا چاہئیے ۔ چنانچہ مکن نہیں کہ جو لوگ ایسے والیان ریاست کو ملنے جاتے ہیں اس کے خلاف کر سکیں وہ السلام علیکم کبھی نہیں کہہ سکتے کہ اس سے ہتک سمجھی جاتی ہے۔ اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مسلمان کہاں تک اسلام سے دور ہو گئے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان میں السلام علیکم کہنے کا رواج اور عمل نہیں رہا بلکہ اس پر عمل کرنا ہتک سمجھا جاتا ہے اور جہاں انہیں اختیار حاصل ہے وہاں اس پر سزا دینے اور کے لئے تیار ہیں۔ پھر اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے السلام علیکم کہہ دے تو کہتے ہیں کہ یہ کیا پتھر کی طرح اُٹھا کر مار دیا۔ کیا تم میں اتنی بھی تہذیب نہیں کہ بڑوں کو السلام علیکم کہتے ہو۔” آداب عرض“ کہنا چاہئیے ۔ اس پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ہم دہلی گئے ۔ جن کے گھر ہم ٹھہرے ہوئے تھے ان کا ایک چھوٹا سا لڑکا تھا اس کو میں نے علیحدہ لے جا کر خوب اچھی طرح سکھا دیا کہ السلام علیکم کہا کرو آداب عرض نہ کہا کرو۔ ایک دفعہ ہم باہر سے جو گھر آئے تو اس لڑکے نے کہا السلام علیکم ۔ ہم نے وعلیکم السلام کہا۔ تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ ایک کو نہ سے اس بچے کے رونے کی آواز آرہی ہے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کی اتاں اس بچے کو آہستہ آہستہ اس لئے مار رہی ہے کہ تم نے بڑوں کو السلام علیکم کیوں کہا۔ ہم نے کہا اس بیچارے کا کوئی قصور نہیں یہ تو ہم نے ہی اسے سکھایا ہے۔ تو السلام علیکم کہنا بڑی ہتک سمجھی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ شرفاء کا طریق نہیں ہے حالانکہ اصل میں یہی شرافت ہے۔ ” آداب عرض“ کے معنی ہی کیا ہوئے ایک فضول اور لغو سا فقرہ ہے لیکن السلام علیکم کہنے میں دُعا کی جاتی ہے۔ یہ کہنے والا کہتا تو یہ ہے کہ تجھ پر سلامتی ہو لیکن اس فقرہ کا رنگ بدلا ہوا ہے تا کہ آپس میں محبت اور الفت کا اظہار ہو۔ اصل میں اس کے یہ معنی ہیں کہ اے اللہ تو اس بندے پر سلامتی نازل کر۔ اب دیکھ لو کہ یہ کہنے سے نیک نتائج نکل سکتے ہیں یا آداب اور تسلیمات کہنے ہے۔ السلام علیکم کہنا تو ایک دعا اور خواہش ہے جو خدا تعالی سے کی جاتی ہے لیکن دوسرے صرف الفاظ ہی الفاظ ہیں معنی کچھ نہیں رکھتے ۔ اس لئے جو برکت دعا میں ہے وہ ان میں کہاں ہو سکتی ہے۔ مگر باوجود اس کے مسلمانوں نے اسے ترک کر دیا ہے اور آج سے نہیں بلکہ آج سے بہت عرصہ پہلے سے۔ مدت ہوئی ۔