خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 281

۲۸۱ 32 خطبات محمود جلد (5) (فرموده ۶ اکتوبر ۱۹۱۶ء) سورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا :- يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايْتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ ! کسی چیز کی محبت یا کسی چیز سے نفرت بعض دفعہ انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ محبت کبھی اپنے محبوب کے عیب اور نقص چھپادیتی ہے اور بغض کبھی مبغوض کے بئنروں کو پوشیدہ کر دیتا ہے۔ اور انسان اس چیز کو جو اس کی محبوب ہو بے عیب اور بے نقص خیال کرتا ہے اور وہ چیز جس سے اسے بغض ہوا سے تمام خوبیوں سے عاری اور تمام عیبوں سے پر خیال کر لیتا ہے۔ اور بہت سی باتیں اس کے دشمن اور پیارے کی اس کی نظر سے ایسی گذرتی ہیں کہ دوسرے انہیں دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ اسے نظر کیوں نہیں آتیں۔ گویا وہ آنکھیں رکھتے ہوئے اندھا، کان رکھتے ہوئے بہرہ اور دل رکھتے ہوئے نافہم اور نا سمجھ ہو جاتا ہے۔ اس کی زبان ہوتی ہے مگر وہ چکھ نہیں سکتا۔ اس کی ناک ہوتی ہے مگر وہ خوشبو اور بد بو میں تمیز نہیں کر سکتی کیونکہ محبت یا بغض کے پردے اس پر پڑے ہوتے ہیں ۔ تم کئی آدمی ایسے دیکھو گے کہ وہ ایک چیز سے نفرت کرتے ہوں گے مثلاً کسی کھانے کی چیز سے۔ اگر انہیں اس کے کھانے کے لئے کہا جائے گا تو کہیں گے تو بہ تو بہ ہم تو اس کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن اگر اسی چیز کا نام اور شکل بدلا کر انہیں کھلا دو تو چٹ کر جائیں گے اور ممکن ہے کہ کھاتے ہوئے یہ بھی کہتے جائیں کہ بہت مزیدار بہت لذیذ اور بہت عمدہ ہے۔ اگر درمیان میں ہی انہیں کہہ دیا جائے کہ یہ تو فلاں چیز ہے تو پہلے تو اسی بات سے انکار کریں گے کہ اجی نہیں یہ کہاں وہ چیز ہو سکتی ہے اُس کا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے۔ اور اگر یہ کہنے کی گنجائش نہ دیکھیں گے تو کہیں گے پہلے ہی کھاتے ہوئے ہماری طبیعت پر بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔ اسی طرح اگر لى المائدة : 9 تااا