خطبات محمود (جلد 5) — Page 14
خطبات محمود جلد (5) ۱۴ پہلے بنائے ہوئے قواعد کو اپنے ذہنی خیالات سے ہر وقت تو ڑسکتی ہے اور نئے اصول تجویز کر سکتی ہے۔ پس چونکہ ہر ایک اہل کتاب کے خیالات اور حالات کا دائرہ معلوم ہو جاتا ہے اس لئے ان کے ساتھ تعلق رکھنے کی اسلام نے اجازت دے دی ہے۔ لیکن غیر اہل کتاب کا چونکہ معلوم نہیں ہوتا اس لئے ان کے ساتھ تعلق رکھنے کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ ان سے تعلقات رکھنے سے خطر ناک نقصانات کا احتمال ہے۔ اور اسلام ایسی بات کے کرنے سے روکتا ہے۔ جس میں نقصان زیادہ اور نفع کم ہو۔ چونکہ اس میں نقصان زیادہ ہے اس لئے اس سے روک دیا۔ اور یہ اسلام کی مسلمانوں پر ایک بہت بڑی رحمت ہے تو یہ دو وجوہات ہیں جن کے لئے اہل کتاب کا حق غیر اہل کتاب کی نسبت زیادہ رکھا گیا ہے۔ اور ان کے ساتھ سلوک کرنے میں یہ فرق قرار دے دیا ہے۔ اسی کے متعلق ایک اور سوال اس شخص نے کیا ہے ۔ اور وہ یہ کہ جب قرآن شریف نے اہل کتاب اور غیر اہل کتاب میں اس لئے فرق رکھا ہے کہ ان کی ایمانیات میں فرق ہے تو پھر کیا وجہ ہے تو پھر ہے کہ ہندوؤں ۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ سلوک کرنے میں بھی فرق نہیں رکھا گیا۔ کیونکہ ایمانیات کے لحاظ سے تو ان میں بھی ایک دوسرے سے فرق ہے۔ عیسائی یہودیوں کی نسبت اور یہودی ہندوؤں کی نسبت اسلام سے قریب ہیں اور پھر غیر احمدی ان سب کی نسبت احمدیوں کے قریب ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی اسی لحاظ سے سلوک میں فرق نہیں رکھا گیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے یہ سوال اس لئے کیا ہے کہ اس نے دنیا کے معاملات اور خدا تعالیٰ کے افعال پر غور نہیں کیا ۔ اصل بات یہ ہے سہولت اور کام کے چلانے کے لئے کچھ دائرے اور حدود مقرر کی جاتی ہیں ۔ اور گوان دائروں دائروں ے کے اندر آنے والے افراد افراد میں میں کچھ نہ نہ کچھ کچھ فرق رق ہوتا ہوتا ہے ہے لیکن وہ وہ سب سب اسی ایک ہی دائرہ میں سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً آدمیوں اور گدھوں میں امتیاز کے لئے ایک حد مقرر ہے مگر آدمیوں میں بھی بعض گدھے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ بعض بیوقوفوں کو لوگ گدھے کہتے ہیں لیکن اگر کہیں بہت سے آدمی بیٹھے ہوں اور ان میں ہی کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جن کو گدھے کہا جاتا ہے تو ان سب کو گننے والا ان انسان گدھوں کو بھی انہیں میں شمار کرے گا نہ کہ انہیں گدھے قرار دے کر ان سے خارج سمجھے گا۔ اسی طرح ہر ایک چیز میں ہوتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی دو چیزیں