خطبات محمود (جلد 5) — Page 205
خطبات محمود جلد (5) ۲۰۵ اپنے دین کو دنیا سے اٹھا لیتا ہے اور اس طرح انہیں بتاتا ہے کہ تم نے خدا اور اس کے رسول کی قدر نہ کی۔ اب بتاؤ تمہارے پاس کیا ہے اگر کچھ رکھتے ہو تو تم میں کوئی ابو حنیفہ پیدا تو ہو۔ کوئی فقیہہ اور زاہد تو دکھلا ؤ لیکن وہ کچھ نہیں دکھلا سکتے ۔ اس وقت ان کی روحانی امور میں عقلیں ماری جاتی ہیں دنیاوی لحاظ سے تو بال کی کھال کھینچتے ہیں۔ مگر روحانی طور پر ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جب دنیا کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔ تو خدا کی بارش نازل ہو کر بتاتی ہے۔ کہ دیکھو اب ہم اپنا کام کرتے ہیں۔ پھر لوگوں کے چہروں پر تازگی اور بشاشت آ جاتی ہے۔ وہی لوگ جو مردہ دل ہوتے ہیں زندہ ہو جاتے ہیں وہ جو دین سے بالکل غافل اور بے پرواہ ہو جاتے ہیں دین پر جان دینے والے بن جاتے ہیں کیونکہ ان کی نگاہیں انسانوں پر نہیں بلکہ خدا پر ہوتی ہیں اور اس وقت ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے اس وقت ان کے منہ سے بے اختیار الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ نکلتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جس طرح ڈاکٹر کے موتیا بند دور کرنے سے اس کا تو احسان یا د رکھا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو بھلا دیا جاتا ہے اسی طرح اس روحانی بارش کے بعد بدقسمت لوگ خدا تعالیٰ کو بھلا کر انسانی عقل و فہم پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں ابھی دیکھ لو۔ کوئی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ چند لوگوں نے کہہ دیا مرزا صاحب نے آکر ہمیں کیا دیا صرف وفات مسیح کے مسئلہ کو صاف کیا ہے۔ مگر ان نادانوں نے نہ دیکھا کہ ہم میں اور غیر احمدیوں میں کیا فرق ہے۔ اگر یہ غور کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ان میں اور ان میں بہت بڑا فرق ہو گیا تھا۔ کیا ان کے لئے قرآن کریم ایک زندہ کتاب نہ ہو گئی تھی ۔ اور کیا ان کے لئے رسول کریم ایک زندہ رسول نہ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر کیا جب یہ قرآن کریم پر غور کرتے تو ان کے ذہنوں میں بجلی کی طرح حقائق اور معارف نہیں ڈالے جاتے تھے۔ اور کیا وہ باتیں جو دوسروں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوتی تھیں۔ ان کے لئے عجیب عجیب نکات نہیں ثابت ہوتی تھیں ۔ پھر کیا وہی آیتیں جو نعوذ باللہ سے عجب عجب نکات نہیں ثابت ہوتی تھیں۔ پھر کیا وہی لغو اور فضول سمجھی جاتی تھیں ان کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرکت ان کے لئے بڑی بڑی حکمت نہیں رکھتا تھا۔ یہ سب کچھ تھا مگر انہوں نے ان باتوں کو اپنی عقل اور سمجھ کا نتیجہ قرار دیا۔ اور یہ کہہ دیا۔